خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 670
خطبات مسرور جلد دہم 670 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء خطبہ جمع سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا سرور احمد خلیفہ امسح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012ء بمطابق 2 رنبوت 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس وقت بھی میں آپ کو صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روایات پیش کروں گا جوان کی بیعت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔پہلی روایت حضرت محمد شاہ صاحب کی ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے پہلے واقعات میں (اس سے پہلے یہ اپنے کوئی واقعات لکھ چکے ہیں، جہاں سے یہ حوالہ لیا گیا۔اس سے آگے چلتا ہے ) یہ لکھا تھا کہ سید کو دوسرے کی بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ سید تھے۔انہوں نے کہا کہ میں یہی سمجھتا تھا کہ سید کو دوسرے کی بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ایک روایت پہلے بیان ہو چکی ہے۔کہتے ہیں اور اسی لئے میں نے باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حق پر سمجھتا تھا، بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی۔کہتے ہیں، کچھ مدت تک میں اسی خیال میں پختہ رہا لیکن جب بھی کسی مجلس میں حضرت مرزا صاحب کا ذکر ہوتا، اگر توصیفی رنگ میں ہوتا تو دلچسپی سے سنتا اور جس مجلس میں مخالفت ہوتی اس مجلس میں بیٹھنا نا گوار گزرتا۔اس مجلس میں نہ بیٹھتا، اُٹھ کر چلا جاتا۔آخر ایک روز کسی کے منہ سے بے پیر اور بے مرشد کا سن کر جو کسی اور سے کہہ رہا تھا، خیال آیا کہ بے پیر اور بے مُرشد تو ایک گالی ہے۔اور میں خود بے پیر اور بے مرشد ہوں۔کیا سید مستثنیٰ ہیں ؟ خود ہی بعض گدی نشینوں کا خیال آ کر کہ بعض بڑے بزرگ گزرے ہیں اور وہ سید تھے۔انہوں نے بھی بعض غیر سید بزرگوں کی بیعت کر کے فیض حاصل کیا۔تو میں بھی اپنی جگہ فکر مند رہنے لگا۔لیکن کم عقلی اور جہالت کی وجہ سے کسی سے دریافت نہ کیا۔لیکن ایک مقصد دل میں رکھ کر بعض اچھے آدمیوں سے اپنے مقصد کے پورا ہو جانے کے واسطے کوئی ورد پوچھنے اور کرنے شروع کر دیئے۔