خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 637 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 637

خطبات مسرور جلد دہم 637 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء گئے تب میں نے اُن کے پیچھے جو دوست تھے اُن سے دریافت کیا کہ یہ کون بزرگ ہیں۔اُن میں سے ایک نے کہا کہ آپ نہیں جانتے؟ یہ حضرت مرزا صاحب ہیں۔اسی فجر کو میرے دوست ڈاکٹرمحمد اسمعیل خان صاحب مرحوم نے میرے دروازے پر آکر دستک دی۔جب میں باہر آیا تو انہوں نے فرمایا شاہ صاحب! آپ تو احمدی ہو گئے۔میں نے دریافت کیا کہ کس طرح؟ انہوں نے کہا کہ آج رات مجھے خواب آیا ہے کہ آپ شفا خانہ میں آ کر بیٹھے ہیں اور میں نے اندر جا کر اپنا صندوق کھول کر ایک بہت عمدہ خوبصورت انگر کھا (ایک گاؤن سا) آپ کو پہنایا ہے اور وہ آپ کے بدن پر بہت فٹ (Fit) آیا ہے۔اس کے بعد میں نے بہت خوبصورت عمدہ عمدہ بٹن لا کر اُس ( گاؤن ) میں لگا دیئے۔( تو یہ خواب صرف انہی کو نہیں آئی بلکہ ان کے احمدی دوست تھے ، اُن کو بھی اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ سے اشارہ بتا دیا کہ اس طرح احمدیت کی طرف مائل ہو گئے ہیں یا احمدی ہو جائیں گے کیونکہ نیک فطرت ہیں۔) بہر حال کہتے ہیں اس کے کچھ عرصے بعد میں اپنے سسرال والوں کے گھر سید اکبر شاہ مرحوم کے مکان میں آیا۔مرزا غلام اللہ صاحب مرحوم جو کہ پڑوسی تھے ، میرے پاس آئے۔جمعہ کا دن تھا۔میں اُن کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں گیا۔وہاں انہوں نے مجھے منبر کے پاس بٹھا دیا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تب انہوں نے حضور انور کی خدمت میں میری بیعت لینے کے متعلق عرض کیا۔حضور انور نے نہایت شفقت سے میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیا اور دیگر بیعت کرنے والوں نے میری پشت پر ہاتھ رکھ کر بیعت کر لی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔رجسٹر نمبر 7 صفحہ 144۔روایات حضرت ولایت شاہ صاحب) پھر اسی طرح بیعت کا واقعہ حضرت عنایت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے 1901ء میں بیعت کی تھی۔( کہتے ہیں) اُس وقت میری عمر قریباً پندرہ سال کی تھی۔جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو ایک عطر کی شیشی ہمراہ لایا۔پیدل سفر کیا۔رات بٹالہ رہا۔جب شیشی دیکھی تو سوائے ایک قطرہ کے باقی ضائع ہو گیا۔مجھے سخت افسوس ہوا۔شام کی نماز کے وقت جب حضور مسجد مبارک کی چھت پر تشریف لائے۔مصافحہ کیا۔اور حضور کو بندے نے دبانا شروع کیا تو عرض کی میں ایک شیشی عطر لا یا تھا، وہ راستہ میں ضائع ہو گیا۔شیشی حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔فرمایا تم کو پوری شیشی کا ثواب مل گیا۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شیشی میں جو تھوڑ اسا عطر کا ایک آدھ قطرہ رہ گیا تھا، اُس کو قبول فرما یا اور فرمایا تمہاری نیت تحفہ دینے کی تھی تمہیں پوری شیشی کا ثواب مل گیا ہے۔) پھر کہتے ہیں کہ نماز کے بعد بیعت کی اور دس یوم تک رہا۔