خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 622
خطبات مسر در جلد دہم 622 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء متعلق ذکر تھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے حضور پڑھی جس میں مولوی صاحب مذکور نے ذکر کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر غار ثور میں لے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُٹھا کر نہیں لے گئے تھے، بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ چل کر غار میں داخل ہوئے تھے۔بعد اس کے حضرت صاحب نے اُن کی کاپی چھپوانے کی اجازت دی اور اندر تشریف لے گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 7 صفحہ 151 روایت حضرت اللہ رکھا صاحب) حضرت محمد فاضل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ بیعت کے لئے میرے اندر بڑی تڑپ تھی اور اُدھر روحانیت حضرت اقدس علیہ السلام نے اس قدر دل میں تغیر پیدا کیا جس کا بیان اظہار سے بالا تر ہے۔حضرت مخدوم الملت کی خدمت میں میں نے عرض کی کہ میری بیعت کے لئے عرض کریں۔( یعنی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو کہا )۔چنانچہ ہر شام کی نماز میں حضرت مخدوم الملت میری بیعت کے لئے عرض کرتے ( یعنی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو وہ کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کریں ) اور حضور علیہ السلام فرماتے کہ کل۔اس پر میرے شوق کی آگ بمصداق وعدہ ، ( فارسی کا شعر پڑھتے ہیں کہ ) وصل چون شود نزدیک آتش شوق تیز تر گردد ( یعنی جب محبوب سے ملنے کا وقت نزدیک آ جائے تو آ تش شوق جو ہے وہ بھڑکتی جاتی ہے۔) کہتے ہیں آخر ہفتے کے بعد میری طبیعت نے یہ فیصلہ کیا کہ بیعت تو خواب میں بھی کر چکا ہوں۔وہاں سے بغیر رخصت کے روانہ ہو گیا۔( جب کچھ دن بیعت نہیں ہوئی تو میں نے کہا، بیعت تو میں خواب میں کر چکا ہوں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھے بغیر میں واپس اپنے گھر ، اپنے شہر آ گیا۔کہتے ہیں جب یہاں گھر پہنچا تو پھر بیقراری اور اضطراب بڑھ گیا۔پھر ایک ماہ کے بعد قادیان شریف روانہ ہو پڑا۔جب میں حضرت خلیفہ اسیح الاول کے مطب میں داخل ہوا تو آپ نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ جو امام وقت کی بغیر اجازت کے جاتا ہے اُس کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے۔غرض میں نے اُس وقت سمجھا کہ بغیر اجازت امام الوقت جانا مناسب نہیں۔پھر حضرت صاحب کو ملا۔پھر میں نے بیعت کے لئے اصرار نہ کیا۔دل میں برودت اور تسکین پیدا ہوتی گئی۔آخر بائیس روز کے بعد شام کی نماز کے بعد