خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 621
خطبات مسر در جلد دہم 621 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء کیفیت تھی۔دل سے دریافت کیا کہ اب بھی مرزا صاحب کی صداقت میں کوئی شبہ ہے۔دل نے کہا بالکل نہیں۔صبح کو مرزا صاحب کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ تو کوئی فرشتہ آسمان سے اُترا ہے اور معمولی بدن کا انسان ہے اور اس کی ہر حرکت پر جان قربان کرنے کو طبیعت چاہتی تھی۔جب حضور علیہ السلام سامنے آ جاتے تھے، بے اختیار رونا آ جاتا تھا اور گویا حضور معشوق تھے اور یہ نا چیز عاشق۔بڑی خوشی سے بیعت کی اور خدا نے شیطان کے پنجے سے چھڑا کر مسیح کے دروازے پر زبر دستی لا ڈالا۔ورنہ میرے بگڑنے میں کیا کسر باقی رہی تھی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 7 صفحہ 219-220 روایت حضرت شیخ محمد افضل صاحب) حضرت قائم الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے گاؤں کی مسجد سے نماز پڑھ کر اُٹھا ہوں تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ارے بھائی! ایک ایسی آفت آئی ہے کہ وہ تمام دنیا کو کٹ کر جائے گی۔میں بھی سن کر محسوس کر رہا ہوں کہ یہ تمام ہم لوگوں کو کھا جائے گی۔سیاہ رنگ کی لکڑی سی ہے جو کہ تمام کھیتوں میں نظر آ رہی ہے۔میں لوگوں کو کہتا ہوں کہ بھائی یہ تو ہم کو ضرور کھا جائے گی۔کچھ خدا کو تو یاد کر لو۔اُسی وقت ( ان آفتوں میں سے ) ایک دو نے میرے دائیں ہاتھ کی انگلی پکڑ لی تو مجھے فکر ہوا کہ مجھے یہ نہیں چھوڑے گی۔تو میں نے اس کیڑے سے پوچھا کہ کیا تم خدا کی طرف سے آئے ہو؟ اُس کیڑے نے انگلی پکڑ لی۔اُس نے کہا : ہاں۔میں نے کہا کیا مرزا صاحب سچے ہیں یا نہیں ؟ اُس نے کہا وہ بچے ہیں۔اگر تو مرزا صاحب کو نہیں مانے گا تو ہم تمہیں ضرور کھائیں گے کیونکہ وہ صادق ہیں۔بار بار تین دفعہ آواز آئی کہ مرزا صاحب بچے ہیں۔پھر آنکھ کھل گئی۔وہ پھر کہتے ہیں کہ صبح اُٹھ کر میں نے اپنی اماں سے پوچھا کہ جمعہ کب ہے؟ انہوں نے کہا: پرسوں۔چنانچہ جمعہ کے دن جا کر حضرت صاحب کی میں نے بیعت کر لی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 7 صفحہ 367 خواب حضرت قائم الدین صاحب بروایت سردار خان گجراتی صاحب) حضرت اللہ رکھا صاحب ولد میاں امیر بخش صاحب ، یہ دونوں صحابی تھے، فرماتے ہیں کہ : میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواب میں دیکھا۔تصدیق خواب کے لئے میں مع مولوی احمد دین صاحب مرحوم ساکن نارووال قادیان آئے۔گرمی کے دن تھے۔مہینہ یاد نہیں۔مسجد مبارک میں نماز صبح کے بعد حضرت مسیح موعود تشریف فرما ہوئے۔مولوی احمد دین مرحوم ساکن نارووال نے اپنی ایک سہ حرفی جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی مبارک کے متعلق اور اُس زمانے کے لوگوں کی شرارتوں کے