خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 55

خطبات مسرور جلد دہم 55 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء سے 2007ء میں، قازقستان سے 2008ء میں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک صدقہ جاریہ ہے جو راویل صاحب کی یاد دلاتا رہے گا۔را ویل صاحب جیسا کہ میں نے کہا بہت بڑے سکالر تھے، جرنلسٹ تھے، شاعر تھے۔ان کو مختلف قسم کے اعزازات ملے۔اُن کو تاتارستان کا ایک سب سے بڑا اعزاز موسی جلیل (Musa Jalil's) پرائز آف آنر ملا۔یہ احمدیت سے پہلے 1986 ء کا ہے۔پھر 2001 ء میں پھر آرٹس میں خدمات کے سلسلے میں اُن کو ایک انعام ملا۔2006ء میں تاتارستان میں انہیں اعلیٰ اعزاز ، نیشنل پرائز آف آنر سے نوازا گیا۔پھر اپنی ایک کتاب پر اُن کو ایک بہت بڑا انعام ملا۔2009ء میں ان کی کتاب نے رشیا بک فیئر میں ایوارڈ جیتا۔پھر ایک اور اعزاز ان کو 13! اکتوبر کو دی آرڈر آف کلچرل ہیر نتیج“ کا ملا۔اسی طرح آپ مختلف سوسائٹیوں کے ممبر بھی تھے جس میں دنیا بھر کی بیشمار سوسائٹیاں ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ بی بی سی رشین سروس میں یہ کام کرتے رہے ہیں۔ان کے ساتھی اینڈریو اوستا سکی (Andrew Ostalski)، جو بی بی سی کی رشین سروس کے مدیر اعلیٰ رہے ہیں، انہوں نے ان کو وفات کے بعد خراج عقیدت اس طرح پیش کیا۔لکھتے ہیں کہ : ایک لمبے عرصے تک بی بی سی رشین سروس میں ہمارے ساتھ کام کرنے والے ہمارے ساتھی راویل بخارایف صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔راویل بخار ایف کے ساتھ تقریباً پندرہ سال سے زیادہ شانہ بشانہ کام کیا۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایسے صلاحیتوں والے اور بچے ساتھی کے ساتھ کام کرنے کا مجھے موقع ملا۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ تعلیمی اعتبار سے تو راویل صاحب ریاضی دان تھے لیکن ایک نہایت اعلیٰ شاعر، پختہ ایمان رکھنے والے مخلص مسلمان تھے۔بلکہ اگر ان کو ایک مذہبی عالم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔راویل صاحب نے اپنی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا اور اُن سے متاثر ہونا غلط بھی نہیں کیونکہ وہ ایک اعلیٰ گفتگو کرنے والے ایسے انسان تھے جن کا علم مختلف جہتوں میں پھیلا ہوا تھا۔اور جو لوگ ان سے ملے ہوئے ہیں یہ جانتے ہیں کہ یقیناً اُن کے بولنے کا بڑا میٹھا اور پیارا انداز تھا۔اپنا گرویدہ کر لیتے تھے۔راویل صاحب اپنی کتاب ”دار و گا بوگ زنایت کو دا (رشین نام ہے ) یعنی یہ راہ کدھر لے جائے ؟ خدا ہی جانتا ہے، میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کس طرح جماعت سے متعارف ہوئے ، لکھتے ہیں۔خلاصہ اُس کا یہ ہے کہ شام کے وقت میں یہاں ٹی وی پر بیٹھا پروگرام سُن رہا تھا تو ٹیلیفون کی گھنٹی بجی اور گھر والی نے (جس کے گھر میں یہ تھے ) ٹیلی فون اُٹھایا کہتے ہیں مجھے ٹیلیفون