خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 575
خطبات مسرور جلد دہم 575 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء اس زمانے میں اُس نے اپنے مسیح و مہدی کو بھیج کر دنیا کو اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے۔لیکن اگر وہ استہزاء اور ظلم سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ بھی بڑی سخت ہے۔دنیا کے ہر خطے پر آجکل قدرتی آفات آ رہی ہیں۔ہر طرف تباہی ہے۔امریکہ میں بھی طوفان آ رہے ہیں اور پہلے سے بڑھ کر آ رہے ہیں۔معاشی بدحالی بڑھ رہی ہے۔گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آبادیوں کو پانی میں ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ان خطرات میں گھری ہوئی ہیں۔پس ان حد سے بڑھے ہوؤں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پھیرنے کی ضرورت ہے۔ان سب باتوں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پھیر نے والا ہونا چاہئے نہ یہ کہ اس قسم کی بیہودہ گوئیوں کی طرف وہ توجہ دیں۔لیکن بدقسمتی سے اس کے الٹ ہو رہا ہے۔حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔زمانے کا امام تنبیہ کر چکا ہے، کھل کر بتا چکا ہے کہ دنیا نے اگر اس کی آواز پر کان نہ دھرے تو ان کا ہر قدم دنیا کو تباہی کی طرف لے جانے والا بنائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام جو بار بار دہرانے والا پیغام ہے، اکثر پیش ہوتا ہے، آج پھر میں پیش کر دیتا ہوں۔فرمایا کہ: دو یادر ہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے ایسا ہی یورپ میں بھی آئے۔اور نیز ایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے۔اور بعض اُن میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اس قدر موت ہوگی کہ خُون کی نہریں چلیں گی۔اس موت سے پرند چرند بھی باہر نہیں ہوں گے۔اور زمین پر اس قدر سخت تباہی آئے گی کہ اُس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہوگی۔اور اکثر مقامات زیروز بر ہو جائیں گے کہ گویا اُن میں کبھی آبادی نہ تھی۔اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین و آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی یہانتک کہ ہر ایک عقلمند کی نظر میں وہ باتیں غیر معمولی ہو جائیں گی اور ہیئت اور فلسفہ کی کتابوں کے کسی صفحہ میں اُن کا پتہ نہیں ملے گا۔تب انسانوں میں اضطراب پیدا ہوگا کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔اور بہتیرے نجات پائیں گے اور بہتیرے ہلاک ہو جائیں گے۔وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی اور نہ صرف زلزلے بلکہ اور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی ، کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے۔یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے۔جیسا کہ