خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 564
خطبات مسر در جلد دہم 564 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء اس زمانے میں اخباروں اور اشتہاروں کے ساتھ میڈیا کے دوسرے ذرائع کو بھی اس بیہودہ چیز میں استعمال کیا جارہا ہے۔پس یہ لوگ جو اپنی ضد کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے مقابلہ کر رہے ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ اُس کی پکڑ میں آئیں گے۔یہ ضد پر قائم ہیں اور ڈھٹائی سے اپنے ظالمانہ فعل کا اظہار کرتے چلے جا رہے ہیں۔2006ء میں جب ڈنمارک کے خبیث الطبع لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیہودہ تصویریں بنائی تھیں تو اُس وقت بھی میں نے جہاں جماعت کو صحیح ردعمل دکھانے کی طرف توجہ دلائی تھی وہاں یہ بھی کہا تھا کہ یہ ظالم لوگ پہلے بھی پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس پر بس نہیں ہوگی۔اس احتجاج وغیرہ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جو اب مسلمانوں کی طرف سے ہو رہا ہے بلکہ آئندہ بھی یہ لوگ ایسی حرکات کرتے رہیں گے۔اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اُس سے بڑھ کر یہ بیہودگی اور ظلم پر اتر آئے ہیں اور اُس وقت سے آہستہ آہستہ اس طرف ان کا یہ طریق بڑھتا ہی جارہا ہے۔پس یہ ان کی اسلام کے مقابل پر ہزیمت اور شکست ہے جو ان کو آزادی خیال کے نام پر بیہودگی پر آمادہ کر رہی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یا درکھیں کہ یہ لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں۔یہ بات ایک دن ان قوموں کے لوگوں پر بھی کھل جائے گی۔ان پر واضح ہو جائے گا کہ آج جو کچھ بیہودہ گوئیاں یہ کر رہے ہیں، وہ ان کی قوم کے لئے نقصان دہ ہے کہ یہ لوگ خود غرض اور ظالم ہیں۔ان کو صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ کسی بات سے سروکار نہیں ہے۔اس وقت تو آزادی اظہار کے نام پر سیاستدان بھی اور دوسرا طبقہ بھی بعض جگہ کھل کر اور اکثر دبے الفاظ میں ان کے حق میں بھی بول رہا ہے اور بعض دفعہ مسلمانوں کے حق میں بھی بول رہا ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ اب دنیا ایک ایسا گلوبل و پیج بن چکی ہے کہ اگر کھل کر برائی کو برائی نہ کہا گیا تو یہ باتیں ان ملکوں کے امن و سکون کو بھی برباد کر دیں گی اور خدا کی لاٹھی جو چلنی ہے وہ علیحدہ ہے۔امام الزمان کی یہ بات یادرکھیں کہ ہر فتح آسمان سے آتی ہے اور آسمان نے یہ فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ جس رسول کی تم ہتک کرنے کی کوشش کر رہے ہو اُس نے دنیا پر غالب آنا ہے۔اور غالب، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، دلوں کو فتح کر کے آنا ہے۔کیونکہ پاک کلام کی تاثیر ہوتی ہے۔پاک کلام کو ضرورت نہیں ہے کہ شدت پسندی کا استعمال کیا جائے یا بیہودہ گوئی کا بیہودہ گوئی سے جواب دیا جائے۔اور یہ بدکلامی اور بدنو ائی جو ان لوگوں نے شروع کی ہوئی ہے، یہ انشاء اللہ تعالیٰ جلد ختم ہو