خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 563
خطبات مسرور جلد دہم 563 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء جس نے اپنی جان کو مخلوق کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے اس درد کا اظہار کیا اور اس طرح غم میں اپنے آپ کو مبتلا کیا کہ عرش کے خدا نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا تو ان لوگوں کے لئے کہ کیوں یہ اپنے پیدا کرنے والے رب کو نہیں پہچانتے ، ہلاکت میں ڈال لے گا؟ اس عظیم محسن انسانیت کے بارے میں ایسی اہانت سے بھری ہوئی فلم پر یقینا ایک مسلمان کا دل خون ہونا چاہئے تھا اور ہوا اور سب سے بڑھ کر ایک احمدی مسلمان کو تکلیف پہنچی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور غلام صادق کے ماننے والوں میں سے ہیں۔جس نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقام کا ادراک عطا فرمایا۔پس ہمارے دل اس فعل پر چھلنی ہیں۔ہمارے جگر کٹ رہے ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ ان ظالموں سے بدلہ لے۔انہیں وہ عبرت کا نشان بنا جو رہتی دنیا تک مثال بن جائے۔ہمیں تو زمانے کے امام نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح اور اک عطافرمایا ہے کہ جنگل کے سانپوں اور جانوروں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت خاتم الانبیاء کی توہین کرنے والے اور اُس پر ضد کرتے چلے جانے والے سے ہم صلح نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریم کی عزت کے لئے جان دیتے ہیں۔اور وہ اس بے عزتی سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور اُن کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ اُن کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت تو ہین سے اُن کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے اُن کو یاد کرتے ہیں“۔آپ فرماتے ہیں کہ ” یا درکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے ہوتے ہیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے۔مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے باز نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بد زبانی میں ہی فتح ہے۔مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے“۔فرمایا کہ پاک زبان لوگ اپنی پاک کلام کی برکت سے انجا مکار دلوں کو فتح کر لیتے ہیں۔مگر گندی طبیعت کے لوگ اس سے زیادہ کوئی ہنر نہیں رکھتے کہ ملک میں مفسدانہ رنگ میں تفرقہ اور پھوٹ پیدا کرتے ہیں۔فرمایا کہ " تجر بہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بد زبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔خدا کی غیرت اُس کے اُن پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 385 تا 387) 66