خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 555 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 555

خطبات مسرور جلد و هم 555 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء نائیجیریا سے آئے ہوئے ایک چیف نے مجھے کہا کہ ان حالات میں جس طرح جلسہ کا ایک عارضی انتظام ہوا ہے، ایک پورا شہر بسایا جاتا ہے، اس سے زیادہ بہتری اور ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ہم اس بات پر اس مہمان کے شکر گزار تو ضرور ہیں اور اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا کرتے ہیں کہ محض اور محض اُس کے فضل سے مہمان ہم سے خوش گیا ہے۔لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہماری انتہا تھی جو ہم نے حاصل کر لی۔ہماری کوشش تو خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔اس مرتبہ غیر ملکی مہمانوں کو جن میں ایک کثیر تعداد غیر از جماعت مہمانوں کی بھی تھی ، بجائے کرائے پر جگہ لینے یا ہوٹل کا انتظام کرنے کے جامعہ احمدیہ یو کے کی نئی عمارت میں ٹھہرایا گیا تھا۔جامعہ احمدیہ یو کے کی نئی عمارت بھی چند ماہ قبل ہی خریدی گئی ہے۔یہ عمارت وسیع رہائشی انتظام کے علاوہ جگہ کے لحاظ سے بھی بہت خوبصورت مقام میں ہے۔پہاڑیوں کے اوپر اور جنگل میں گھری ہوئی ہے لیکن آبادی کے بھی قریب ہے۔پھر باہر سے آنے والوں کو عمو مائیں کہا کرتا ہوں کہ اسے جا کر دیکھو۔یہ جماعت کی ایک اچھی پراپرٹی بنی ہے۔جو بھی یہ جگہ دیکھتا ہے تعریف کئے بغیر نہیں رہتا۔یہ بھی اللہ کے انعاموں میں سے ایک انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سال جماعت پر فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جگہ ہمیں غیر معمولی طور پر کم قیمت پر مل گئی۔یہ جگہ ہوٹل کے طور پر بھی اور اسی طرح مختلف کانفرنسوں کے لئے بھی استعمال ہوتی تھی۔اس لئے ہمارے رہائش کے مقصد کو بھی اس نے احسن طریق پر پورا کیا۔بہر حال ہمارے تمام غیر از جماعت معزز مہمان جن میں بعض ملکوں کے وزیر بھی شامل تھے، یہاں ٹھہرے اور انتظام اور جگہ کی بہت تعریف کی۔ان معزز مہمانوں نے اپنے تاثرات میں مجھے یہ بھی کہا کہ ایک بچے سے لے کر جو جلسہ گاہ میں پانی پلا رہا تھا، بڑے تک ہر ایک کو میں نے یا ہم نے خدمت پر کمر بستہ اور خوش مزاج دیکھا۔تو یہ ان لوگوں کے تاثرات ہیں۔کارکنان کو بھی ان مہمانوں کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے اُن کی صرف اچھائیاں دیکھی ہیں۔ہر ایک میں کچھ نہ کچھ کمزوریاں تو ہوتی ہیں لیکن یہ بھی مہمانوں کی وسعت حوصلہ ہے کہ انہوں نے اپنے میزبانوں کا شکریہ احسن رنگ میں ادا کیا ہے۔اور شکریہ کے انتہائی جذبات کے ساتھ اظہار کیا ہے۔ہمیشہ کی طرح اس سال بھی غیر از جماعت مہمان ہمارے نظام، جلسہ کے ماحول، لوگوں کے حسن سلوک سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔اس کے لئے بھی جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے ، میں بھی کرتا ہوں اور ہر احمدی کو کرنا چاہئے ، وہاں کارکنان کا بھی ہر شامل جلسہ کو شکر یہ ادا کرنا چاہئے۔میں بھی اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے رات دن ایک کر کے اس جلسہ کے نظام کو خوب چلایا