خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 554 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 554

خطبات مسرور جلد دہم 554 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے ہم پر جو فضل ہورہے ہیں اس کے لئے صفحات کے صفحات بھر سکتے ہیں۔غرض کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ایک سلسلہ ہے جو ہمیں شکر گزاری پر مجبور کرتا ہے، ہمیں شکر گزاری کا ادراک عطا کرتا ہے۔یہ تو شکر گزاری کا وہ مضمون ہے جو انتظامیہ کے لئے بھی ہے، کارکنوں کے لئے بھی ہے اور ہر شامل جلسہ کے لئے بھی ہے کہ اگر اُس کا حقیقی عبد اور اُس کا حقیقی بندہ بننا ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنیں۔جلسہ کے دنوں میں ایک ایسا سلسلہ بھی چلتا ہے جو بندوں کو بندوں کا شکر گزار بنانے والا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے اور اس میں کارکنان اور کارکنات جو جلسہ کے کام کر رہے ہوتے ہیں وہ شامل ہیں۔جن میں مختلف شعبہ جات کے کارکنان ہیں جو ہمارے مہمانوں کے لئے رہائشی سہولتیں مہیا کرتے ہیں ، نہانے دھونے کی سہولت مہیا کرتے ہیں ، ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں ، کھانے پکانے کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں، کھانا کھلانے کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں۔پھر کھانے کے بعد کی صفائی کا انتظام ہے اُس کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔حفاظت کے انتظام کرتے ہیں۔اس کے لئے خدام الاحمدیہ ہر وقت مستعد رہتی ہے۔اس مرتبہ مجھے نئے آنے والے مہمانوں، جن میں غیر از جماعت اور بعض ملکوں کی بڑی شخصیات بھی تھیں، کے علاوہ ہر سال آنے والے بعض مہمانوں نے بھی بتایا کہ عمومی طور پر جلسہ سالانہ کا انتظام گزشتہ سال کی نسبت بہت بہتر تھا۔اس پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بھی ہیں اور اُن کارکنوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔کافی بہتری مختلف شعبہ جات میں اس سال آئی ہے۔پس یہی چیز ہے جو ہمارا خاص نشان ہونی چاہئے کہ ہمارے انتظام میں ہر سال بہتری ہو۔انسانی کاموں میں کبھی یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ اس میں سو فیصد پرفیکشن (Perfection) آ جائے گی، درستگی آجائے گی، سو فیصد بہترین ہو سکتے ہیں۔اور کوئی انسان بھی سو فیصد کامل نہیں ہوسکتا سوائے ایک انسان کے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے، کوئی ایسا انسان پیدا نہیں ہوا جو انسانِ کامل ہو۔لیکن آپ بھی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دینی معاملات میں تو کامل بنایا ہے، اُن دنیاوی معاملات میں نہیں جن میں اُس نے میری رہنمائی نہیں فرمائی۔پس ایک انسان ہونے کی وجہ سے ہمارے کاموں میں کمیاں اور کمزور یاں تو ہوں گی لیکن اگر ہم ان کمزوریوں اور کمیوں کی اصلاح کے لئے تیار رہیں تو پھر ہمیشہ بہتری کی طرف ہمارے قدم بڑھتے رہیں گے۔دنیا کو تو ہماری کوششیں یا ہمارے کام بہت اعلیٰ معیار کے لگتے ہیں لیکن ہمیں احساس ہونا چاہئے کہ بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔