خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 550 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 550

خطبات مسر در جلد دہم 550 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2012ء نے دنیا میں ہر جگہ جماعت کو ایسے مواقع مہیا فرمائے جن سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں اور ایسے طبقے میں جہاں اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانا مشکل نظر آتا ہے ، وہاں بھی احمدیت کا پیغام پہنچانے کی جماعت کو توفیق ملی۔اور میرے مختلف ممالک کے دوروں کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل کے نظارے ہم نے دیکھے جن کا ذکر میں دوروں کے دوران اور اس کے بعد کے خطبات میں کر چکا ہوں۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں کا یہ سلسلہ اس سال ایک نئی شان سے یورپ میں بھی اور افریقہ میں بھی ، امریکہ میں بھی اور ہندوستان میں بھی ہمیں نظر آیا۔اور جماعت احمد یہ برطانیہ کے جلسہ میں بھی ہر ایک نے مشاہدہ کیا اور محسوس کیا اور ان فضلوں کو حاصل کرنے والے بھی بنے۔ہر دن اور ہر موقع شکر گزاری کی نئی راہیں ہمیں دکھاتا ہے۔پس ہمیں چاہئے کہ شکر گزاری کی ان راہوں پر چلنے والا بنیں۔ہر انعام وفضل اور اللہ تعالیٰ کی جماعت کے لئے تائید و نصرت ہمیشہ ہمیں شکر گزاری کی نئی منزلیں دکھانے والا بھی ہو۔اور ہم اُس شکر گزاری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے مزید انعاموں اور فضلوں کے وارث بننے والے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ اگر شکر گزار بنو گے تو اور انعامات ملیں گے۔فرمایا لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم : 8 ) اللہ تعالیٰ تو نوازتا ہے اور نواز نے کے موقعے عطا فرماتا ہے۔یہ انسان ہے جو ناشکری کی وجہ سے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے انعامات سے محروم رہ جاتا ہے۔پس یہ شکر گزاری بھی انسان کو ہی فائدہ دیتی ہے جو ایک مومن اللہ تعالیٰ کی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو غنی ہے، بے احتیاج ہے، نہ ہی اُسے کسی کی مدد کی ضرورت ہے، نہ ہی کسی انعام کی ضرورت ہے ، نہ ہی بندوں کے شکریہ کی ضرورت ہے۔وہ تمام تر دولتوں اور طاقتوں کا مالک ہے۔پس ایسی ہستی کو ہماری شکر گزاری یا ہمارے شکر گزار ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ جب انسانوں پر اپنا فضل نازل فرماتا ہے تو یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ شکر گزار بھی ہوتے ہیں یا نہیں۔اگر شکر گزار ہو جائیں تو فضل بڑھتے چلے جاتے ہیں۔قرآنِ کریم میں مثلاً حضرت سلیمان کے ط حوالے سے بھی اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کو دیکھ کر کہا کہ لِيَبلُو اشْكُرُ آمَ اكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ، وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (النمل: 41) تاکہ کہ وہ مجھے آزمائے میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔اور جو شکر کرے وہ اپنی جان کے فائدے کے لئے ایسا کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو یقیناً میرا رب بے نیاز ہے اور صاحب اکرام ہے۔وہی ہے جو فضل فرمانے والا ہے۔پس یہ شکر گزاری انعامات لینے اور اعلیٰ خلق کے اظہار سکھانے کے لئے ہے۔شکر کرو گے تو اور انعامات ملیں گے۔تمہارے اخلاق بہتر ہوں گے۔لیکن ایک دنیا دار انسان کی