خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 544 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 544

خطبات مسرور جلد دہم 544 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012ء کی طرف بہت توجہ دیں۔اجتماعی تہجد کا یہاں انتظام ہے جو یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ یہاں آئیں جو گھروں میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ اپنے گھروں میں تہجد کی با قاعدگی اختیار کریں تا کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کی ترقی کے غیر معمولی نظارے ہمیں دکھائے۔پاکستانی احمدیوں کو بھی خاص طور پر دعاؤں میں یاد رکھیں۔اُن پر ظلموں کی اب انتہا ہو رہی ہے جیسا کہ میں نے کہا۔اب کل بھی وہاں ایک شہادت ہوئی ہے اور ایک اور شخص پر بھی فائر ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بچ گئے۔باقی دنیا کے احمدیوں کو بھی جہاں جہاں بھی اُن پر ظلم ہو رہا ہے اُن کو دعاؤں میں یا درکھیں۔اللہ تعالیٰ جلد ان ظالموں کی پکڑ کے سامان پیدا فرمائے اور دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی پہچان کرنے والی بن جائے۔اس وقت جیسا کہ میں نے کہا ایک شہادت ہوئی ہے۔ان شہید کا جنازہ غائب بھی ہم پڑھیں گے اور اس کے ساتھ ہی بعض اور جنازے بھی ہیں۔یہ شہید مکرم راؤ عبدالغفار صاحب ابن مکرم محمد تحسین صاحب ہیں جن کو کل 6 ستمبر 2012ء کو شہید کر دیا گیا۔یہ چاکیواڑہ میں اپنے ایک سکول میں کام کرتے تھے جہاں پڑھانے کے بعد شام کو پانچ بجے گھر واپس آنے کے لئے وہاں سے نکلے ہیں اور بس میں سوار ہونے لگے ہیں تو نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے آپ پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں دو فائر آپ کو لگے۔ایک گولی کندھے میں لگی اور دوسری گردن سے پیچھے سے لگ کر سر سے نکل گئی جس سے آپ موقع پر شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ شہادت کے وقت شہید مرحوم کی عمر بیالیس سال تھی۔شہید مرحوم نے جنوری 2012ء سے وصیت کی ہوئی تھی۔گو وصیت منظور نہیں تھی تاہم اپنی وصیت کا چندہ دے رہے تھے۔جماعتی خدمات تھیں۔زعیم انصار اللہ حلقہ تھے۔سیکرٹری خصوصی تحریکات تھے۔نہایت مخلص احمدی تھے۔نہایت نیک سیرت اور آپ کو دعوت الی اللہ کا بے حد شوق تھا، اسی طرح آپ کا اور آپ کی فیملی کا جماعت سے بہت پختہ تعلق تھا۔انتہائی خوش اخلاق ، ملنسار، دعا گو شخص تھے۔خلافت سے گہری محبت رکھتے۔کسی بھی تحریک میں جو خلیفہ وقت کی طرف سے ہوتی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔1995ء میں آپ کی شادی شازیہ کلثوم صاحبہ بنت راناعبدالغفار صاحب کے ساتھ ہوئی تھی۔ان سے آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔انہوں نے بھی اور ان کی ہمشیرہ نے بھی 1988ء میں مباہلے کا نتیجہ دیکھ کر، ضیاء الحق کا انجام دیکھ کر اس وقت بیعت کی تھی۔ان کی والدہ ان سے پہلے احمدی ہو چکی تھیں اور ان کے ذریعے سے ان کے خاندان میں پھر احمدیت کا