خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 49

خطبات مسرور جلد دہم 49 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء خطبہ جمہ سید نا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012 ء بمطابق 27 صلح 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ اپنے وفات پا جانے والوں کی خوبیوں کا ذکر کرو۔اور پھر اسی میں آگے فرمایا کہ اُن کی برائیاں بیان نہ کیا کرو۔(سنن الترمذی کتاب الجنائز باب 34 حدیث (1019) ہرانسان میں اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن وفات کے بعد کیونکہ انسان کا تعلق اس دنیا سے کٹ جاتا ہے اس لئے اب اس دنیا میں کسی کی کمزوریوں اور برائیوں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ہاں اُس کی خوبیوں، اُس کی نیکیوں کو ضرور بیان کرنا چاہئے ، اُن کا ضرور ذکر ہونا چاہئے۔اس سے ایک تو نیکیوں کی تحریک پیدا ہوتی ہے اور دوسرے جب مرنے والے کی نیکیوں کا ذکر ہو رہا ہو تو وفات شدہ کی مغفرت کے لئے دعا بھی نکلتی ہے۔اور اُس کی مغفرت کے سامان ہوتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اچھائیاں اور کمزوریاں ہر ایک میں پائی جاتی ہیں۔یہ انسانی فطرت ہے کبھی نیکیوں کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے، کبھی بعض کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔لیکن بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جن کی خوبیاں اور نیکیاں ایسی چمک رہی ہوتی ہیں کہ بشری کمزوریوں کو بالکل نظروں سے اوجھل کر دیتی ہیں۔اُن کی نیکیاں اس طرح وسیع تر اور پھیلی ہوئی ہوتی ہیں کہ کمزوریاں اُن کے پیچھے چھپ جاتی ہیں اور بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں ایسے لوگ کہ جن کی نیکیاں ، جن کی خوبیاں ہر جاننے والے کی زبان پر ہوتی ہیں۔اور ایک حدیث کے مطابق جب ایسی صورت ہو تو ایسے شخص پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔(صحیح بخاری کتاب الجنائز باب ثناء الناس على الميت حديث 1367)