خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 543
خطبات مسرور جلد دہم 543 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012 ء ہیں کہ بعضوں کو شکوہ ہو جاتا ہے۔اُن کو چیکنگ کروالینی چاہئے۔یہ آپ کے فائدہ کے لئے ہی ہے۔اور جیسا کہ میں ہمیشہ ہر جلسہ پر اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہر شاملِ جلسہ کو جلسہ میں بیٹھے ہوئے یہاں ہر مرد اور عورت کو اپنے ماحول پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم محتاط ہو کر ہر طرف نظر رکھنے والے ہوں گے تو یہ سب سے بڑا سیکیورٹی کا نظام ہے جو اس وقت جماعت احمدیہ میں ہے اور جو دنیا میں کہیں اور نہیں مل سکتا۔یہ جماعت احمدیہ کا ہی خاصہ ہے۔پس اس میں بھی کبھی ڈھیلے نہ ہوں۔لا پرواہی نہ کریں۔کسی کی بھی مشکوک حرکت پر انتظامیہ کو اطلاع کریں۔کسی جگہ کوئی تھیلا وغیرہ یا کوئی بیگ پڑا ہوا دیکھیں تو ڈیوٹی والوں کو آگاہ کریں۔ایک اور بات یہ ہے کہ اس دفعہ کیونکہ جلسہ کی تاریخیں مختلف ہیں، رات کے وقت جو یہاں ٹینٹ لگا کر یا اجتماعی قیامگاہ میں رہنے والے ہیں، اُن کو رات کو سردی کا احساس ہوگا کیونکہ ٹھنڈ زیادہ ہو جاتی ہے۔بعض لوگوں کی طبیعت نازک بھی ہوتی ہے۔اس لئے ایک تو گرم کپڑے پہن کر سوئیں اور رضائیوں کا، quilt وغیرہ کا انتظام تو یہاں ہے جو نہیں لے کر آئے وہ بھی نیچے لے لیں۔ایک دو سال ہی یہ مجبوری ہے انشاء اللہ تعالیٰ پھر اپنے وقت میں جلسہ آجائے گا۔کارکنان کو میں پہلے ہی توجہ دلا چکا ہوں کہ اُن کے فرائض کیا ہیں؟ مہمان کی مہمان نوازی کا حق ادا کریں۔ہر شعبہ ہمیشہ کی طرح بے لوث ہو کر خدمت کرے۔پھر صفائی کے بارے میں بھی اور خاص طور پر ٹائٹلٹس کے بارے میں شکایتیں بہت زیادہ آتی ہیں۔اگر عمومی طور پر نہیں تو بعض نفیس طبائع ایسی ہوتی ہیں جو ذراسی بھی گندگی برداشت نہیں کر سکتے۔اس لئے جہاں ان کی صفائی کا انتظام رکھنا انتظامیہ کا کام ہے، وہاں لوگوں کو بھی چاہئے کہ استعمال کے بعد اپنی جگہ صاف کر کے باہر نکلیں۔گو اس دفعہ اس انتظام کے لئے ایک علیحدہ ٹیم بھی بنادی گئی ہے، اب امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ بہتر انتظام ہوگا لیکن پھر بھی صفائی کا انتظام ہونا چاہئے۔کیونکہ صفائی بھی یادرکھیں کہ معمولی چیز نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ ایمان کا حصہ ہے۔(صحیح مسلم كتاب الطهارة باب فضل الوضوء حدیث نمبر 534) پس ایک مومن کو ہر طرح سے اپنے ایمان کے معیار اونچے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اور افراد جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ نمازوں اور نوافل اور دعاؤں پر زور دیں۔ان دنوں میں خاص طور پر درود، دعائیں، نوافل وغیرہ کی ادائیگی