خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 542 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 542

خطبات مسرور جلد دہم 542 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012 ء کی حرکت بہت جلد ہو گی۔چنانچہ یہ آیت اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لنَهْدِيَتَهُمْ۔۔۔۔الخ (العنکبوت: (70) ( کہ جن لوگوں نے ہمارے بارے میں کوشش کی ہم انہیں ضرور اپنے راستوں کی طرف ہدایت دیں گے، رہنمائی کریں گے۔فرمایا ) سوجو جو باتیں میں نے آج وصیت کی ہیں، ان کو یا درکھو کہ ان ہی پر مدار نجات ہے۔تمہارے معاملات خدا اور خلق کے ساتھ ایسے ہونے چاہئیں جن میں رضائے الہی مطلق ہی ہو۔پس اس سے تم نے وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا هِ۔۔۔۔الخ (الجمعه: 4) کے مصداق بننا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 28-29 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پس یہ جلسہ کے دن ہمیں میسر آئے ہیں اور اس سے چند دن پہلے رمضان گزرا ہے جس میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔جلسہ کے دنوں میں ہم علمی اور تربیتی طور پر قرآن، حدیث اور سنت کی روشنی میں باتیں بھی سنیں گے۔خدا تعالیٰ کی ذات کا ادراک ، اُس سے تعلق جوڑنے کی طرف بہت سوں کو مزید توجہ پیدا ہو گی۔اس علم کے ساتھ ہمیں اپنے عمل کو بھی صیقل کرتے چلے جانے کی اور ملانے کی ضرورت ہے۔جو کچھ حاصل کیا، اُس کو سنبھالنے اور اُس سے فیض اٹھاتے چلے جانے کی ضرورت ہے۔اپنے ہر عمل میں دوام اور باقاعدگی کی ضرورت ہے۔ہمیں ان برکات کو سمیٹنے کے لئے اس جلسہ کو بھی فضل الہی سمجھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔انتظامی لحاظ سے بھی بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں۔یہ خیال رکھیں کہ جلسہ سالا نہ میں آتے وقت بھی اور یہاں سے واپسی پر بھی جو لوگ کاروں پر آرہے ہیں، کاروں کی پارکنگ کی جگہوں پر اور نہ ہی پارکنگ سے جلسہ گاہ آتے ہوئے کیونکہ جو دور پار کنگ ہے، وہاں سے بعض پارکنگ کر کے اب بسوں کے ذریعے سے آئیں گے اور پھر یہاں سے بسوں کے ذریعہ سے ہی جائیں گے تو آتے ہوئے اور جاتے ہوئے اور پارکنگ کے وقت جب پارکنگ کر رہے ہوں، کسی قسم کا رش نہیں ہونا چاہئے۔با قاعدہ ایک انتظام کے تحت، ایک لائن کے تحت ، ایک تنظیم کے تحت ہمیں چلنا چاہئے۔اسی طرح جلسہ گاہ میں داخل ہوتے ہوئے جہاں چیکنگ اور سکینرز وغیرہ لگے ہوئے ہیں وہاں بھی یہ احتیاط کریں کہ لائنوں میں اور ترتیب سے آئیں۔کیونکہ جہاں بھی لائنیں توڑیں گے ، بدانتظامی پیدا ہوتی ہے اور پھر دیر بھی لگتی ہے، پھر شکوے بھی بڑھتے ہیں۔آپ کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔انتظامیہ کے لئے پریشانی کا باعث بھی بنتا ہے۔اسی طرح سامان کی چیکنگ بھی جب کی جاتی ہے تو بعض شکایتیں مجھ تک پہنچی