خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 541
خطبات مسر در جلد دہم 541 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012 ء بدعملیوں سے بچنے کا مشورہ دے گی۔ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب کو چھوڑ کر اپنے جذبات کا تابع ہونے کی کوشش کرو گے تو نقصان اُٹھاؤ گے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحه 10-9 مطبوعه ربوہ) پس مامورمن اللہ کی بیعت کر کے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر معاملے میں ہم کتاب اللہ سے مشورہ لیتے ہیں یا اپنے نفس سے۔اگر ہمارا نفس ہمیں کتاب اللہ کے مشورے پر عمل کرنے سے روکتا ہے تو ہمیں اپنی فکر کرنی چاہئے۔ان دنوں میں خاص طور پر یہ جو جلسہ کے دن ہیں ہمیں درود، استغفار پر زور دینا چاہئے تا کہ ہم اپنی اصلاح کی طرف زیادہ سے زیادہ مائل ہوں۔اپنی خواہشات اور جذبات کو خدا تعالیٰ کی خواہشات اور احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش اور دعائیں کریں تا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے والے بن سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے اعلیٰ معیاروں کے حصول کے لئے جو ارشادات فرمائے ہیں اُن سب کا احاطہ تو اس وقت ممکن نہیں، ایک اہم بات جو میں اس وقت آپ کے حوالے سے یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں ، وہ ایسی ہے کہ اگر ہم اس کو اپنا لیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہمارے قدم بڑھتے چلے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ راتوں کو اُٹھو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی راہ دکھلائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی تدریجا تربیت پائی۔وہ پہلے کیا تھے؟ ایک کسان کی تخمریزی کی طرح تھے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آبپاشی کی۔آپ نے اُن کے لیے دعائیں کیں۔بیج صحیح تھا اور زمین عمدہ تو اس آبپاشی سے پھل عمدہ نکلا۔جس طرح حضور علیہ السلام چلتے اسی طرح وہ چلتے۔وہ دن کا یارات کا انتظار نہ کرتے تھے۔تم لوگ سچے دل سے تو بہ کرو۔تہجد میں اٹھو۔دعا کرو۔دل کو درست کرو۔کمزوریوں کو چھوڑ دو اور خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے قول و فعل کو بناؤ۔یقین رکھو کہ جو اس نصیحت کو ورد بنائے گا اور عملی طور سے دعا کرے گا اور عملی طور پر التجا خدا کے سامنے لائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے گا اور اس کے دل میں تبدیلی ہوگی۔خدا تعالیٰ سے نا امید مت ہو۔ع برکر یماں کا رہا دشوار نیست ( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 28 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ) فرمایا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو کیا کوئی ولی بنا ہے؟ افسوس انہوں نے کچھ قدر نہ کی۔بیشک انسان نے ( خدا تعالیٰ کا) ولی بننا ہے۔اگر وہ صراط مستقیم پر چلے گا تو خدا بھی اس کی طرف چلے گا اور پھر ایک جگہ پر اس کی ملاقات ہوگی۔اس کی اُس طرف حرکت خواہ آہستہ ہوگی لیکن اس کے مقابل خدا تعالیٰ