خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 540 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 540

خطبات مسر در جلد دہم 540 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012ء ہے۔فرما یا ان فرائض کے علاوہ ہر نیکی کے ساتھ نوافل بھی ہوتے ہیں۔یعنی ایسی نیکی جو کسی کے حق سے فاضل اور زائد ہو۔نیکی کا بدلہ اتارا۔قرض لیا قرض کا بدلہ اتارا ، اپنا قرض ادا کیا یہ تو بہر حال فرض ہے۔لیکن اس کے نفل یہ ہیں کہ اُن سے زائد بھی کچھ ادا ہو اور انبیاء ہمیشہ اس سنت پر عمل کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمارے سامنے ہے جو سب سے بڑھ کر اس پر عمل کرنے والے تھے۔جیسے کہ فرمایا احسان کے مقابل احسان کے علاوہ اور احسان کرنا یہ نفل ہے۔اب اگر کوئی کسی پر احسان کرے تو احسان کا بدلہ تو احسان کر کے اتارا ہی جا سکتا ہے اور اتارنا چاہئے۔یہ تو فرض ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی ( یہی ) فرمایا ہے کہ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے۔لیکن اس فرض پر نفل تب ہو گا جب احسان سے بڑھ کر احسان کیا جائے۔فرمایا اگر یہ ہوگا تو یہ وہ عمل ہے جو فرائض کو مکمل کرتا ہے اور زائد ثواب کا مورد بناتا ہے۔فرمایا کہ حدیث کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جو اتنا مقام حاصل کر لیتے ہیں کہ جن کے ہاتھ پاؤں اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے۔حتی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اُن کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتے ہیں۔یعنی اُن کا ہر قول و فعل خدا تعالیٰ کی رضا کی تڑپ کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے لئے اور خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے۔ایسا کام اُن سے سرزد ہی نہیں ہوتا جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 9 مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ٹارگٹ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اپنی بیعت میں آنے کے بعد دیا ہے۔اور بیعت کا حق ہم تبھی ادا کر سکیں گے جب اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔آپ نے فرمایا کہ اس کے حصول کے لئے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ایک رات میں یہ مقام حاصل نہیں ہو جاتا۔اس کے لئے جذبات نفس سے پاک ہونا ہوگا۔نفسانیت کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق چلنا ہو گا۔کوشش کرنی ہوگی کہ میرا کوئی فعل نا جائز نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے تابع ہو۔جب یہ ہوگا تو روز مرہ کی بہت سی مشکلات سے انسان بیچ رہے گا۔آپ نے واضح فرمایا کہ لوگ مشکلات میں پڑتے ہی اُس وقت ہیں جب اللہ تعالیٰ کی رضا کے برخلاف کوئی کام کرتے ہیں۔اُس وقت یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے نیچے نہیں آتے بلکہ اپنے جذبات کے نیچے آ کر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔مثلاً غصہ میں آ کر کوئی ایسا فعل سرزد ہو جائے جس سے مقدمات بن جائیں، کوٹ کچہری کے چکر لگانے پڑ جائیں، جیل جانا پڑ جائے۔لیکن اگر کوئی یہ ارادہ کر لے کہ کتاب اللہ کی مرضی کے بغیر ، اُس کے استصواب کے بغیر کوئی حرکت وسکون نہیں کرنا، کوئی عمل نہیں کرنا اور ہر بات پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کو دیکھنا ہے تو آپ نے فرما یا اللہ تعالیٰ کی کتاب