خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 526
خطبات مسرور جلد دہم 526 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء سے فیض پانے کے لئے حاضر ہوتے تھے اور آپ کے حکم سے آتے تھے کیونکہ آپ بار بار تلقین فرما یا کرتے تھے کہ میرے پاس آؤ۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 480-479۔ایڈیشن 2003ء۔مطبوعہ ربوہ ) آج جو ہمارے مہمان آ رہے ہیں یا آئیں گے وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم سے آپ کے قائم کردہ تربیتی نظام سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ہی آ رہے ہیں اور آئیں گے۔اُس جلسہ میں شمولیت کے لئے آ رہے ہیں جس کا اجراء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اور احباب جماعت کو جو وسائل رکھتے ہیں، اس میں شامل ہونے کی نصیحت فرمائی۔پس یہ آنے والے مہمان اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں اور ہمارے لئے یہ اعزاز ہے، ہر کارکن کے لئے یہ اعزاز ہے کہ ان مہمانوں کی بھر پور خدمت کریں، انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دیں۔جن توقعات کو لے کر وہ یہاں آتے ہیں انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔جلسہ پر آنے والے مہمان تو عموماً آتے ہی جلسہ کے لئے ہیں اور چند دن کے لئے اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔آجکل جیسا کہ میں نے کہا مرکزی جلسہ ہونے کی حیثیت سے دنیا کے کونے کونے سے آتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے مہمان کا اُس کو جائز حق دو اور آپ نے فرمایا کہ یہ جائز حق تین دن کی مہمان نوازی ہے یا چند دنوں کی مہمان نوازی ہے۔(ماخوذ از صحیح بخاری کتاب الادب باب اکرام الضيف و خدمته اياه بنفسه حدیث : 6135) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان نوازی کے اپنے معیار کیا تھے؟ چند دن کی مہمان نوازی نہیں تھی بلکہ مستقل مہمان نوازی ہوتی تھی۔روایات میں آتا ہے کہ وہ لوگ جو دین سیکھنے کی غرض سے ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر پڑے رہتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس لحاظ سے مستقل مہمان ہوتے تھے ، اُن کی ضروریات کا کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیال رکھا کرتے تھے اور آپ کس طرح اُن کی مہمان نوازی فرماتے تھے۔مالک بن ابی عامر کی ایک لمبی روایت ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص طلحہ بن عبید اللہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ اے ابو محمد ! تم اس یمانی شخص یعنی ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو جانے والا ہے۔ہمیں اس سے ایسی ایسی احادیث سنے کو ملتی ہیں جو ہم تم سے نہیں سنتے۔اس پر انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسکین تھے۔