خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 494 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 494

خطبات مسرور جلد دہم 494 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء سوچوں کو پاک کیا۔اُن کو قرآن کا علم عطا فرمایا جس نے اُن کے یقین اور ایمان کو انتہائی مدارج تک پہنچا دیا۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر اُن کو عین الیقین ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے انہوں نے خود دیکھ لئے جس نے انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطا فرمایا۔یہ سب کچھ انہیں اپنے آقا ومطاع صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کی وجہ سے ملا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے اس حکم کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: 70) کہ اور جو لوگ ہمیں ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے راستوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، اس کا مزید ادراک حاصل ہوا اور یہ سب کچھ جیسا کہ میں نے کہا اُن کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر چلنے کی کوشش سے ہوا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اور یہ علوم جومدار نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعوی ہے کہ وہ حیات روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے۔یعنی یہ جو علوم کا ذکر ہوا ہے کہ روحانی عملوں سے نجات ہوتی ہے، پاکیزہ قوتیں عطا ہوتی ہیں، پاکیزہ حواس عطا ہوتے ہیں، پاک علم عطا ہوتا ہے۔فرمایا یہ جو مدار نجات ہیں، نجات کا باعث بننے والے علوم ہیں ، یہ صرف اس طرح حاصل نہیں ہو سکتے کہ خود اس زندگی میں انسان کوشش کر لے بلکہ انسان کو یہ روح القدس سے ملتے ہیں۔اور فرمایا کہ قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعویٰ ہے کہ حیات روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے۔( یہ جسمانی زندگی نہیں ہے ، روحانی زندگی ہے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلنے اور آپ کی پیروی سے ملتی ہے۔اور تمام وہ لوگ جو اس نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ مردے ہیں۔فرمایا ” تمام وہ لوگ جو اس نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ مردے ہیں جن میں اس حیات کی ( یعنی یہ روحانی حیات کی روح نہیں ہے۔پھر فرمایا ” اور حیات روحانی سے مراد انسان کے وہ علمی اور عملی قوی ہیں جو روح القدس کی تائید سے زندہ ہو جاتے ہیں۔اور قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ جن احکام پر اللہ جل شانہ انسان کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ چھ سو ہیں۔ایسا ہی اس کے مقابل پر جبرائیل علیہ السلام کے پر بھی چھ سو ہیں۔اور بیضہ بشریت جب تک چھ سو حکم کو سر پر رکھ کر جبرائیل کے پروں کے نیچے نہ آوے اس میں فنا فی اللہ ہونے کا بچہ پیدا نہیں ہوتا۔( یعنی مثال دی گئی ہے کہ انسان کا جو خول ہے، پیدائش کا جو انڈہ ہے، جب تک انسان ان چھ سو احکامات کو اپنے اوپر طاری نہ کرے ، لاگو نہ کرے اُس وقت تک وہ فنافی اللہ نہیں ہوسکتا۔وہ بچہ پیدا نہیں ہو سکتا جس سے انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ترین ہو جائے۔