خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 490
خطبات مسر در جلد دہم 490 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء کہہ کر ہمیں اس آیت کی یاددہانی کروادی کہ میرے نمونے تمہیں شیطان سے بچا کر حقیقی عبد بنا سکتے ہیں نہ کہ تمہاری کوششیں۔میری ڈھال کے پیچھے رہو تو شیطان سے بچے رہو گے۔عبادت کا سوال ہے تو یہ نہ سمجھو کہ ایسے عمل کر کے جو میں نے نہیں کئے تم عبادت کا حق ادا کر سکو گے یا اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکو گے۔نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔اس زمانے میں ہم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا احسان ہے جو آپ کے عاشق صادق ہیں کہ ہمیں آپ کے حقیقی اُسوہ اور اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔عبادتوں کے لئے جو نئے نئے ذکر اور محفلیں منعقد کرنے کی بدعات رواج پاگئی ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ سے ثابت نہیں ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کا قرب کبھی نہیں دلا سکتیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 162۔ایڈیشن 2003 ء۔مطبوعہ ربوہ ) پس قرب کے حصول کے لئے اسوہ پر عمل کرنا ضروری ہے۔اس وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی ، آپ کے عملی نمونے کی چند مثالیں پیش کروں گا۔لیکن اس سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات اور دوسرے اخلاق کے نمونے پیش کروں گا جو ہمارے لئے رہنما ہیں جن کے کرنے سے ہم اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن سکتے ہیں اور اُس کا پیار حاصل کرنے والا بن سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے، اس حوالے سے آپ کی نظر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے اور جو ہمارے سامنے آپ نے پیش فرمایا ہے وہ میں پہلے بیان کروں گا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ اسْتَرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا۔۔۔۔۔(الزمر: 54) یعنی کہہ اے میرے غلامو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمت الہی سے نا امید مت ہو۔خدا تعالیٰ سارے گناہ بخش دے گا۔فرماتے ہیں کہ اب اس آیت میں بجائے قُلْ يَا عِبَادَ اللہ کے، جس کے یہ معنے ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو! یہ فرمایا کہ قُلْ يُعِبَادِی یعنی کہہ اے میرے غلامو۔اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گناہوں سے دل شکستہ ہیں اُن کو تسکین بخشے۔سو اللہ جلشانہ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلاوے کہ میں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں“۔(وہ لوگ جو گناہوں کی وجہ سے بالکل مایوس ہو گئے ہیں اُن کو بتائے