خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 470

خطبات مسرور جلد دہم 470 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء پس جن کی زبانوں سے جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا، جن کے عمل دنیاوی لالچوں سے باہر نہیں آتے۔جن کی زبانیں گند کے علاوہ کچھ نہیں بولتیں۔آجکل تو پاکستان میں دیکھ لیں بلکہ یہاں بھی اکثر مسجدوں میں خطبات کے دوران میں جماعت کے خلاف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف مغلظات کے علاوہ یہ کچھ نہیں بولتے۔تو کیا یہ وہ علماء ہیں جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہے؟ یقیناً اس کا جواب نہیں میں ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یا درکھو لغزش ہمیشہ نادان کو آتی ہے۔شیطان کو جو لغزش آئی وہ علم کی وجہ سے نہیں بلکہ نادانی سے آئی۔اگر وہ علم میں کمال رکھتا تو لغزش نہ آتی۔قرآنِ شریف میں علم کی مذمت نہیں بلکہ إِنَّمَا يَخْشَى اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: 29) ہے۔پھر فرمایا: ” اور نیم ملاں خطرہ ایمان مشہور مثل ہے۔پس میرے مخالفوں کو علم نے ہلاک نہیں کیا بلکہ جہالت نے ( ہلاک کیا ہے )۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 223۔ایڈیشن 2003 ء۔مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں:۔عالم ربانی سے یہ مراد نہیں ہوا کرتی کہ وہ صرف و نحو یا منطق میں بے مثل ہو بلکہ عالم ربانی سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتار ہے اور اُس کی زبان بیہودہ نہ چلے۔مگر موجودہ زمانہ اس قسم کا آ گیا ہے کہ مردہ شو تک بھی اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں ( یعنی مردے نہلانے والے جو ہیں ، وہ بھی اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں کیونکہ برصغیر میں بعض جگہ رواج ہے کہ نہلانے کے لئے خاص لوگ تلاش کئے جاتے ہیں۔ہر ایک مردہ کو نہیں نہلاتا۔تو انہوں نے بھی اپنے آپ کو علماء کہنا شروع کر دیا ہے)۔فرماتے ہیں اور اس لفظ کو اپنی ذات میں داخل کر لیا ہے۔اس طرح پر اس لفظ کی بڑی تحقیر ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کے منشاء اور مقصد کے خلاف اس کا مفہوم لے لیا گیا ہے۔ورنہ قرآن شریف میں تو علماء کی یہ صفت بیان کی گئی ہے انما يخشى اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: (29)۔یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اللہ تعالیٰ کے وہ بندے ہیں جو علماء ہیں۔اب یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ جن لوگوں میں یہ صفات خوف و خشیت و تقویٰ اللہ کی نہ پائی جائیں وہ ہرگز ہرگز اس خطاب سے پکارے جانے کے مستحق نہیں ہیں۔“ پھر فرماتے ہیں: ”اصل میں علماء عالم کی جمع ہے اور علم اس چیز کو کہتے ہیں جو یقینی اور قطعی ہو اور سچا علم قرآن شریف سے ملتا ہے۔یہ نہ یونانیوں کے فلسفہ سے ملتا ہے، نہ حال کے انگلستانی فلسفے سے۔بلکہ یہ سچا