خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 469 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 469

خطبات مسرور جلد دہم 469 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء یعنی اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور ذات کا علم ہو جائے وہی عالم بن جاتا ہے۔پس ایک حقیقی مسلمان بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اُس کی صفات کا علم ضروری ہے اور یہ بغیر خشیت کے نہیں ہو سکتا اور اس کے لئے کوئی تخصیص نہیں کہ یہ خاص گروہ حاصل کرے اور باقی نہ کریں۔اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہر مومن کے لئے اُس کے حصول کی کوشش ضروری ہے، تبھی ایمان میں ترقی ہوتی ہے تبھی اللہ تعالیٰ کے تعلق میں ترقی ہوتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خشیت اور اسلام کو ایک چیز قرار دے کر ایک حقیقی مسلمان کو عالم کی صف میں کھڑا کر دیا۔ساتھ ہی ہم پر ذمہ داری بھی ڈال دی کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم حاصل کرو اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان صفات کا اپنی حالتوں میں اظہار بھی کرو۔جب یہ صورت ہوگی پھر فضلوں کے مزید دروازے بھی کھلیں گے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”انسان کی خاصیت اکثر اور اغلب طور پر یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نسبت علم کامل حاصل کرنے سے ہدایت پالیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَخشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: 29)۔ہاں جو لوگ شیطانی سرشت رکھتے ہیں وہ اس قاعدہ سے باہر ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن۔جلد 22 صفحہ 122) جن کی فطرت میں ہی شیطانیت گھسی ہوئی ہے وہ تو بہر حال اس سے باہر ہیں۔پس جو علم پانے کا دعوی کر کے ہدایت کے راستے پر نہیں چلتا وہ عالم نہیں ہے، اُس کو بظاہر جتنا مرضی ظاہری علم ہو۔اگر کوئی کہے کہ اُس شخص نے قرآن کریم پڑھا ہے تو قرآن کریم تو بہر حال غلط نہیں ہے۔اُس کو سیکھنے والے کا دعویٰ غلط ہے۔اُس نے اُس روح کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔قرآن یقیناً خشیت لئے ہوئے دل کو علم و عرفان عطا فرماتا ہے لیکن متکبر اور خشیت سے خالی دل کو اور ظالموں کو سوائے خسارہ کے قرآنِ کریم کچھ نہیں دیتا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔یہ لم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے اور خشیت الہی پیدا ہوتی ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔انَّمَا يَخْشَى اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر :29)۔اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوتی تو یا درکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 195۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ )