خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 468

خطبات مسرور جلد دہم 468 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء یعنی کیا اہل ایمان کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خوفزدہ ہو جائیں۔اس آیت کا فضیل کے قلب پر ایسا اثر ہوا جیسے کسی نے تیر مار دیا ہو اور آپ نے اظہار تأسف کرتے ہوئے کہا کہ یہ غارتگری کا کھیل کب تک جاری رہے گا اور وقت آچکا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں چل پڑیں۔لکھا ہے کہ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رو پڑے اور اس کے بعد سے ریاضت میں مشغول ہو گئے۔پھر ایک ایسے صحراء میں جا نکلے جہاں کوئی قافلہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا اور اہل قافلہ میں سے کوئی کہہ رہا تھا کہ اس راستے میں فضیل ڈاکے مارتا ہے۔لہذا ہمیں راستہ تبدیل کر دینا چاہئے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اب قطعا بے خوف ہو جاؤ۔اس لئے کہ میں نے راہزنی سے توبہ کر لی ہے۔پھر ان تمام لوگوں سے جن کو آپ سے اذیتیں پہنچی تھیں ، معافی طلب کر لی۔پھر یہی ڈاکے ڈالنے والے رحمتہ اللہ علیہ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔(ماخوذ از تذکرۃ الاولیاء از حضرت شیخ فریدالدین عطار صفحه 75-74 مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاہور ) پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کی خشیت کا اعجاز کہ جب احساس ہو جائے تو ایک لمحے میں ایک عام انسان کو بلکہ بدترین انسان کو بھی جو اُس زمانے میں بدترین کہلاتا ہو، جس کو لوگ پسند نہ کرتے ہوں علماء کی صف میں لاکھڑا کر دیتا ہے۔جبکہ بڑے بڑے نام نہاد اور جبہ پوش تکبر میں مارے ہوئے نظر آتے ہیں۔باوجوداس کے کہ عام دنیا اُن کو بڑا نیک سمجھ رہی ہوتی ہے لیکن اُن میں خشیت نہیں ہوتی۔اور جو انسانوں سے تکبر کرنے والے ہیں وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی خشیت دل میں لئے ہوئے نہیں ہوتے۔پس یہاں علماء کی خشیت سے مراد کچھ اور ہے۔علماء کی خشیت کی یا یہ کہ عالم کون ہے اور خشیت کیا ہے؟ اس کی حقیقی تعریف کچھ اور ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ماننے کی وجہ سے اس حقیقی تعریف کا پتہ چلا ہے۔اس تعریف کو میں آپ کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں جو آپ نے مختلف مواقع پر بیان فرمائی ہے۔پہلے میرا خیال تھا کہ ایک دو حوالے لوں گا۔لیکن یہاں میں نے جو چند حوالے لئے ہیں وہ سارے ہی ایسے ہیں کہ بیان کرنے ضروری ہیں۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ جل شانہ سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت اور قدرت اور احسان اور حسن اور جمال پر علم کامل رکھتے ہیں خشیت اور اسلام در حقیقت اپنے مفہوم کے رُو سے ایک ہی چیز ہے کیونکہ کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔( یعنی لازمی ہے پس اس آیت کریمہ کے معنوں کا مال اور ماحصل یہی ہوا کہ اسلام کے حصول کا وسیلہ کاملہ یہی علم عظمت ذات وصفات باری ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 185)