خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 456

خطبات مسر در جلد دہم 456 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء اپنے حق بات کے قبلوں کو بھی درست کرنا ہو گا۔ہمارا قبلہ خدا تعالیٰ کی طرف ہوگا تو ہم اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں کہ میں نے تمہارے لئے جنت کے دروازے رمضان کی برکات کی وجہ سے کھول دیئے ہیں۔ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر غور کر کے اور عمل کر کے ہی جنت کے دروازے ملیں گے کہ اپنے قول و عمل کی سچائی کے معیار اونچے کرو ورنہ اگر اس طرف توجہ نہیں تو خدا تعالیٰ کو تمہارے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔یہ تو خدا تعالیٰ کی اپنے بندے پر کمال مہربانی اور شفقت ہے کہ عبادتوں اور مختلف قسم کی نیکیوں کے راستے بتا کر ان پر چلنے والے کے لئے انعام مقرر کئے ہیں اور رمضان کے مہینے میں تو ان عبادتوں اور نیکیوں کے ذریعے ان انعاموں کو حاصل کرنے کی تمام حدود کو ہی ختم کر دیا ہے۔بے انتہا انعاموں کا سلسلہ جاری فرما دیا۔اور فرمایا ہے کہ آؤ اور میری رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ۔لیکن یاد رکھو کہ اس میں داخل ہونے کے لئے قولی اور عملی سچائی کا راستہ اپنا نا ہو گا۔اگر اس قبلے کی پیروی کرو گے تو جس طرح آج کل ہر گاڑی میں نیوی گیشن (Navigation) لگا ہوتا ہے اور اس نیوی گیشن (Navigation) کے ذریعے سے تم صحیح مقام پر پہنچ جاتے ہو، اس طرح صحیح جگہ پر پہنچو گے ور نہ رمضان کے باوجود بھٹکتے پھرو گے۔بلکہ دنیاوی نیوی گیشن جو ہیں اس میں تو بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی ہے، بعض دفعہ صحیح فیڈ (Feed) نہیں ہوتا ،نئی سڑکیں بن جاتی ہیں ، نظر بھی نہیں آ رہی ہوتیں۔بعض دفعہ دو راستوں میں سے ایک راستے کی طرف رہنمائی ہوتی ہے، لمبا چکر پڑ جاتا ہے یا چھوٹے رستے کی تلاش میں انسان گلیوں میں گھومتا پھرتا ہے، ٹریفک مل جاتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی طرف اگر قبلہ درست ہوگا تو سید ھے جنت کے دروازوں کی طرف انسان پہنچتا ہے۔پس اس رمضان میں ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے قبلے درست کرے۔اپنی قولی اور عملی سچائیوں کے معیار بلند کرے اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں جانے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔اس مضمون کو میں نے تھوڑا سا مختصر کیا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہوسکتا ہے باقی اگلے جمعہ میں بیان کر دوں۔مختصر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت میں سلسلے کے ایک دیرینہ بزرگ کا کچھ ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی گزشتہ دنوں وفات ہوئی ہے۔یہ بزرگ مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب ہیں۔پاکستان میں تو ہر احمدی اگر نہیں تو ہر جماعت کی اکثریت انہیں جانتی ہے یا جانتی ہوگی اور پرانے لوگ تو بہر حال جانتے ہیں۔ایک لمبا عرصہ بطور وکیل المال اوّل اُنہیں خدمات سلسلہ بجالانے کی توفیق ملی۔یہ وہ بزرگ ہیں جنہوں نے جماعتی نظام میں ، موجودہ نظام جو جماعتی ہے، اس میں اگر بنیادی اینٹیں نہیں تو کم از کم درمیانی