خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 454

خطبات مسرور جلد دہم 454 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء یہ عملی اور قولی جھوٹ شرک ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے روزے دار کا روزہ درحقیقت فاقہ ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔پس یقیناً رمضان انقلاب لانے کا باعث بنتا ہے۔شیطان بھی اس میں جکڑا جاتا ہے۔جنت بھی قریب کر دی جاتی ہے لیکن اُس کے لئے جو اپنی حالت میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اپنے ہر قول و فعل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کرے۔خدا تعالیٰ کی حکومت کو اپنے پر قائم کرنے کی کوشش کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت اور بخشش جو عام حالات کی نسبت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اُس سے بھر پور فائدہ اُٹھائے اور اپنے نفس کے بتوں اور جھوٹے خداؤں کو جو لامحسوس طریق پر یا جانتے بوجھتے ہوئے بھی بعض دفعہ خدا تعالیٰ کے مقابلے پر کھڑے ہو جاتے ہیں، اُن کو ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں اُڑا دے، جب یہ کوشش ہو تو پھر ایک انقلاب طبیعتوں میں پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی حکومت کے لئے جہاں روزوں کے ساتھ عبادتوں کے معیار حاصل کرنا ضروری ہے، قرآن کریم کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا، اُس کی تلاوت کرنا، اس پر غور کرنا ضروری ہے۔وہاں ان عبادتوں کا اثر ، قرآن کریم کے پڑھنے کا اثر، اپنی ظاہری حالتوں اور اخلاق پر ہونا بھی ضروری ہے تا کہ عملی سچائی ظاہر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ نا انصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔حق کو قبول کرلوا گر چہ ایک بچہ سے۔اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔“ ( یہ نہیں ہے کہ میرا کوئی مخالف ہے، وہ سچی بات بھی کہہ رہا ہے تو میں نے ضد میں آ کر قبول نہیں کرنا۔پھر دلیلیں نہ دو، بخشیں نہ کرو بلکہ اس کو چھوڑ دو اور سچائی کو قبول کرو۔پھر فرمایا ”سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو۔جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہی فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج: 31) یعنی بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بت سے کم نہیں“۔فرمایا ”جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بت ہے۔سچی گواہی دو۔اگر چہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔چاہئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو کسی بھی قسم کی دشمنی ہو، تمہارے بیچ پر روک نہ ڈالے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 550)