خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 453 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 453

خطبات مسرور جلد دہم 453 اپنے لئے ہیں مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جز ابنوں گا۔خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء (صحیح بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذاشتم حدیث نمبر (1904) پس یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک کام خدا تعالیٰ کے حکم سے بھی کیا جارہا ہو پھر خدا تعالیٰ کے لئے اور اُس کے پیار کو جذب کرنے کے لئے بھی کیا جارہا ہو اور یہ بھی امید رکھی جارہی ہو کہ میرے اس روزے کی جزا بھی خدا تعالیٰ خود ہے۔یعنی اس جزا کی کوئی حدود نہیں۔جب خدا تعالیٰ خود جزا بن جاتا ہے تو پھر اس کی حدود بھی کوئی نہیں رہتیں۔اور پھر عام زندگی میں اپنی باتوں میں جھوٹ بھی شامل ہو جائے عمل میں جھوٹ شامل ہو جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ زبان سے جھوٹ نہیں بولنا، بلکہ عمل کے جھوٹ کو بھی ساتھ رکھا ہے اور عمل کا جھوٹ یہ ہے کہ انسان جو کہتا ہے وہ کرتا نہیں۔روزے میں عبادتوں کے معیار بلند ہونے چاہئیں۔نوافل کے معیار بلند ہونے چاہئیں۔لیکن اُس کے لئے اگر ایک انسان کوشش نہیں کر رہا، عام زندگی جیسے پہلے گزر رہی تھی اُسی طرح گزر رہی ہے تو یہ بے عملی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ دار سے اگر کوئی لڑائی کرتا ہے تو وہ اُسے کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذاشتم حدیث نمبر 1904) اور جواب نہ دے تو یہ روزے کا حق ہے جو ادا کیا گیا ہے۔لیکن اگر آگے سے بڑھ کر لڑائی کرنے والے کا جواب لڑائی سے دیا جائے تو یہ عملی جھوٹ ہے۔اپنے کاموں میں اگر حق ادا نہیں کیا جارہا تو یہ عملی جھوٹ ہے۔دوسروں کے حق ادا نہیں کئے جار ہے تو یہ عملی جھوٹ ہے۔خاوند کی اور بیوی کی لڑائیاں جاری ہیں اور اپنی طبیعتوں میں رمضان میں اس نیت سے تبدیلی پیدا نہیں کی جا رہی کہ ہم نے اب اس مہینہ کی وجہ سے اپنے تعلقات کو بہتری کی طرف لے جانا ہے اور آپس کے محبت پیار کے تعلق کو قائم کرنا ہے کہ رمضان میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ خود ہماری جزا بن جائے تو بیشک منہ سے یہ دعوی ہے کہ ہمارا روزہ ہے اور خدا تعالیٰ کی خاطر ہے لیکن عمل اسے جھوٹا ثابت کر رہا ہے۔اور پھر عملی جھوٹ کی اور بھی بہت ساری باتیں ہیں۔انتہا اُس کی یہ بھی ہے کہ کاروباروں کو ، اپنے دنیاوی مقاصد کو، اپنے دنیاوی مفادات کو روزے کے باوجود اپنی عبادات اور ذکر الہی اور نوافل کی ادائیگی اور قرآن کریم پڑھنے کی طرف توجہ پر فوقیت دی جائے۔اور پھر اس سے بھی بڑھ کر بعض لوگ اپنے منافع کے لئے ، دنیاوی فائدے کے لئے کاروباروں میں جھوٹ بولتے ہیں، گویا کہ خدا کے مقابلے پر جھوٹ کی اہمیت ہے۔پس