خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 450

خطبات مسرور جلد دہم 450 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012 ء کھانا کھا کر پھر شام تک کچھ نہ کھانا، ایسے لوگ تو بہت سارے دنیا میں ہیں جو صبح کھاتے ہیں اور شام کو کھاتے ہیں، بلکہ بعض نام نہاد فقیر جو ہیں وہ اپنے آپ کو ایسی عادت ڈالتے ہیں ،مجاہدہ کرتے ہیں کہ کئی کئی دن کا فاقہ کر لیتے ہیں لیکن عبادت اور نیکی اُن میں کوئی نہیں ہوتی۔کچھ ایسے بھی دنیا میں ہیں جو بعض دفعہ مجبوری کی وجہ سے نہیں کھا سکتے۔بعض کے حالات ایسے ہیں انہیں مشکل سے ایک دفعہ کی روٹی ملتی ہے۔کچھ کو ڈاکٹر بعض خاص قسم کے پر ہیز کی ہدایت کرتے ہیں اور سارا دن تقریباً نہ کھانے والی حالت ہی ہوتی ہے۔اور بعض لوگ ، خاص طور پر عورتیں، ڈائٹنگ کے شوق میں بھی سارا سارا دن نہیں کھاتیں۔ابھی دودن پہلے میرے پاس ایک ماں آئی کہ میری بیٹی نے جوانی میں قدم رکھا ہے تو یہ دماغ میں آ گیا ہے، اس کو Craze ہو گیا ہے کہ میں نے دُبلا ہونا ہے اور وزن کم کرنا ہے کیونکہ آج کل یہ بہت رو چلی ہوئی ہے اس لئے اُس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اور مجھے پریشان کیا ہوا ہے اور ایک وقت کھاتی ہے اور وہ بھی بہت تھوڑا سا، اور مہینہ میں یا کم و بیش ایک ڈیڑھ مہینہ میں چودہ پندرہ پاؤنڈ اُس نے وزن کم کر لیا ہے۔تو یہ ماں کی فکر تھی اور شاید وہ لڑکی اب سمجھے کہ رمضان کا مہینہ آ گیا ہے، اگر میں آٹھ پہرے روزے رکھ لوں تو نیکی بھی ہو جائے گی اور رمضان کا مہینہ ہے، شیطان تو جکڑا ہوا ہے ، ثواب بھی مل جائے گا اور دونوں کام میرے بھگت جائیں گے۔بعض ایسے بھی میرے علم میں ہیں جو روزہ رکھتے ہیں اور پھر سارا دن اور کوئی کام نہیں ہے۔سوئے رہتے ہیں کہ روزہ نہ لگے اور سمجھ لیا کہ نیکی کا ثواب مل گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ روزہ رکھو، رمضان آیا، شیطان جکڑا گیا، جنت کے دروازے کھول دیئے گئے، دوزخ کے دروازے بند کر دیئے گئے تو یہ بھی ہے کہ تم نے نیک اعمال بھی کرنے ہیں۔بیشک تمہارا یہ عمل ہے کہ تم صبح سحری کھاتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کھاؤ اور شام کو افطاری کر لیتے ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ بعض آٹھ پہرے روزے بھی رکھ لیتے ہیں۔اگر مجبوری ہو تو بعض اٹھ پہرے روزے بھی رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ نہ سمجھو کہ تمہیں روزے کا ثواب مل گیا یا تمہارا شیطان جکڑ ا گیا یا جنت کے دروازے تم پر کھول دیئے گئے اور دوزخ حرام ہوگئی۔روزے کے مہینے میں اس سے وہی فیضیاب ہو گا جو اعمالِ صالحہ بھی بجالائے گا۔جو اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل میں رکھتے ہوئے روزے رکھے اور اس کے ساتھ اپنے ہر عمل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو ایمان کی حالت میں اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے روزے رکھے گا اُس کا روزہ قبول ہوگا۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب من صام رمضان ايمانا واحتسابا ونية حديث 1901)