خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 442 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 442

خطبات مسرور جلد دہم 442 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء ، پہلے تو کبھی سوچنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا، اُسی وقت مجھے جاتے جاتے یہ خیال آیا کہ میں تو تیرا ایک عاجز بندہ ہوں اور تیرے پیغام کو لے کر وہاں جا رہا ہوں۔تیرے مسیح موعود کی نمائندگی میں جا رہا ہوں۔اس لئے نُصِرْتَ بِالرُّغب کا جو وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے اُس کا نظارہ آج بھی دکھا دے۔اور اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کی اور یہ ذوق رکھنے والے احمدیوں نے دیکھا اور اس کا اظہار بھی کیا بلکہ دوسروں نے بھی اظہار کیا کہ نصرت بالرغب کا نظارہ ہم نے وہاں دیکھا۔انور محمود خان صاحب جو مولا نا عبدالمالک خان صاحب کے بیٹے ہیں، وہیں رہتے ہیں، وہاں کی مرکزی عاملہ میں شامل ہیں، انہوں نے ان سیاستدانوں کے وہاں کے حالات کے بارے میں اور ان سیاستدانوں کے مختصر تبصروں کے بارے میں ایک مختصر سا مضمون بھی لکھا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ اُن کو الفضل اور دوسرے رسالوں میں چھپوا بھی دینا چاہئے کہ کس طرح اُن پر اثر ہو رہا تھا۔اس فنکشن میں انتیس (29) کانگریس مین اور سینیٹرز آئے ہوئے تھے۔تھنک ٹینک (Think-tank) سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔پینٹا گون (Pentagon) سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔این جی اوز (NGO'S) سے کچھ لوگ تھے۔پروفیسرز تھے اور ان ساروں کی تعداد تقریباً ایک سو دس تھی۔عموماً وہاں کی روایت بھی ہے اور یہی کہا جاتا ہے کہ کانگریس مین اور سینیٹر ز کسی فنکشن میں جائیں تو زیادہ دیر بیٹھا نہیں کرتے تھوڑی دیر بعد اٹھ کے چلے جاتے ہیں۔بہر حال یہ کہ اُن کے اخلاق کا کیا معیار ہے یہ تو وہ جانتے ہیں۔لیکن ہر کوئی وہاں جانتا ہے کہ بیٹھا نہیں کرتے ، اُٹھ جاتے ہیں۔لیکن اس فنکشن میں دو تین کے علاوہ جنہوں نے پہلے اجازت لے لی تھی۔باقی سب جو ہیں پورا وقت بیٹھے رہے ہیں، بلکہ کیپیٹل ہل کے ہی ایک پرانے بیوروکریٹ جو وہاں کام کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں پندرہ سال سے یہاں ہوں اور ایک پہلی بات تو یہ کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ دس سے زیادہ کانگریس مین یا سینیٹر کبھی کسی فنکشن میں اکٹھے آئے ہوں۔دوسری بات یہ کہ چاہے جس کا مرضی پروگرام ہو کوئی پانچ سات دس منٹ سے زیادہ نہیں بیٹھتا، اٹھ کے چلے جاتے ہیں، چاہے ملکی سر براہان آئیں بلکہ ہمارے اپنے فنکشنوں میں بھی نہیں بیٹھتے۔اور پھر وہ کہنے لگا کہ یہ بات تو میرے لئے بالکل ہی عجیب تھی کہ مختلف پارٹیوں کے لیڈر، اپوزیشن اور جو حکومتی سیاستدان تھے دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور پھر بیٹھے رہے۔جس سینیٹر کا میں نے ذکر کیا ہے کہ 2008ء میں مجھے ملا اور بڑا متکبرانہ رویہ تھا۔وہ بھی نہ صرف وہاں آیا ہوا تھا بلکہ سٹیج پر آ کر بولا اور جتنی دیر میری تقریر تھی وہ پورا وقت بیٹھا رہا اور سن کے گیا۔بعض سینیٹرز