خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 433

خطبات مسرور جلد دہم 433 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز وراحمدخلیفة المسح فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012 ء بمطابق 20 روفا 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عموماً ہم جب اللہ تعالیٰ کے فضل اور انعام کو دیکھتے ہیں تو اکثریت کے منہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور انعام کے ذکر پر الحمد لله نکلتا ہے، چاہے اُسے الحمد کے گہرے معنی کا علم ہو یا نہ ہو۔ایک ماحول میں اُٹھان کی وجہ سے یہ احساس ضرور ہے کہ چاہے تکلفاً ہی کہا جائے ، الحمد للہ ضرور کہنا ہے۔کم علم سے کم علم کو بھی یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ یہ الفاظ ضرور کہے جائیں جو اللہ تعالیٰ کی تعریف کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔پس ایک احمدی کے منہ سے ہر ایسے موقع پر جس سے خوشی پہنچ رہی ہو، جس پر جب اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہورہے ہوں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی انعام مل رہا ہو، یا کسی بھی طریقے سے یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے نواز رہا ہے تو الحمد للہ ضرور نکلتا ہے، چاہے وہ کسی کی ذاتی خوشی ہو یا جماعتی طور پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو۔اور یہ الحمد للہ کے الفاظ کی ادائیگی ہر ایسے موقع پر ایک احمدی کے منہ سے ہونی بھی چاہئے۔لیکن ان الفاظ کی ادائیگی کا اظہار الفاظ کہنے والے کے لئے اور بھی زیادہ برکت کا موجب بن جاتا ہے جب وہ سوچ سمجھ کر ، اُس کی روح کو جانتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہم نے اس زمانے کے امام اور مسیح موعود کو مانا ہے، مہدی موعود کو مانا ہے اور اس ایمان کی وجہ سے ہمیں الحمدُ للهِ یا کسی بھی قرآنی لفظ کے معانی اور روح کو سمجھنے میں دقت نہیں ہے، بشرطیکہ ہماری اس طرف توجہ ہو۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اس کی روح سے ہمیں روشناس کروایا ہے۔الحمد لله کی مختلف رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمائی ہے۔اس وقت میں ایک مختصر وضاحت حمد کے لفظ کی آپ کے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔