خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 431

خطبات مسرور جلد دهم 431 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012 ء یا تعاون نہ ہوتو پھر کاموں میں کبھی برکت نہیں پڑتی۔جماعت کے افراد کے اخلاص میں کوئی شبہ نہیں لیکن عہد یداروں کو بھی اپنی طرف نظر رکھنی ہوگی اور دیکھیں کہ کس نیت سے وہ کام کر رہے ہیں ؟ پس امیر صاحب بھی اس بارے میں نظر رکھیں۔گہرائی میں جا کر نظر رکھنی چاہئے اور بلا وجہ ہر ایک پر غیر ضروری اعتماد بھی نہیں کرنا چاہئے۔میں نے اُس دن عورتوں کے جلسہ میں ذکر کیا کہ بہتر ہے کہ یہاں جلسہ نہ کیا جائے۔اگلا فقرہ میں نے نہیں کہا تھا کہ میں سوچ یہ رہا تھا کہ اگر یہاں انتظامیہ نہیں سنبھال سکتی تو جس سال میں نے آنا ہو تو نارتھ امریکہ، کینیڈا اور امریکہ کا جو جلسہ ہے تو وہ امریکہ میں کر لیا جائے۔آپ لوگوں کے خرچ بھی بچ جائیں گے۔مسائل بھی کم ہو جائیں گے۔دونوں ملکوں کو اپنی اصلاح کی طرف بھی توجہ پیدا ہو جائے گی۔بہر حال جب میں کینیڈا کے افراد جماعت کے اخلاص کو دیکھتا ہوں تو پھر مجھے خیال آتا ہے کہ عہد یداروں کو ایک اور موقع دے دینا چاہئے کہ اپنی اصلاح کر لیں۔وہ عہد یدار جن کے ذہنوں میں صرف دنیا سمائی ہوئی ہے وہ خاص طور پر اپنی اصلاح کریں۔اگر چاہتے ہیں کہ اُن کو خدمت کا موقع ملتا رہے تو اپنے خود جائزے لیں۔کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی ، دونوں جگہ یہ صورتحال ہے۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ نیک نیتی ہے جو کاموں میں برکت ڈالے گی۔خود غرضیاں اور خود پسندیاں اگلی نسلوں کو بھی خراب کریں گی اور آپ کو بھی ناشکر گزار بنائیں گی اور اس کی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور احسانوں کا وارث ہونے کے بجائے خدا نہ کرے، خدا نہ کرے آپ کبھی اُس کی سزا کے باعث بن جائیں۔لیکن نئی نسل سے میں کہتا ہوں کہ وہ بڑوں کی اچھائیاں تو دیکھیں، اُن کی برائیاں نہ دیکھیں۔یہ نہ سمجھیں کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ ہر چیز اچھی کر رہے ہیں۔پس نو جوانوں کو خاص طور پر ہمیشہ اچھائیوں کو دیکھنا چاہئے اور اسی طرف نظر رکھنی چاہئے۔تعلقات اور رابطوں میں کینیڈا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے بہتری نظر آئی یا وہی تعلقات جو پہلے سے بنے ہوئے تھے اور چلے آ رہے ہیں بلکہ بڑھتے ہیں اُن کو انہوں نے قائم رکھا ہے اور اس دفعہ زیادہ سمجھے ہوئے لوگوں سے یہاں میری ملاقات بھی کروائی گئی۔اللہ تعالیٰ کرے کہ اس کے بھی مثبت نتائج نکلیں اور جیسا کہ میں نے کہا یہاں بھی اور امریکہ میں بھی نو جوانوں کی محنت کی وجہ سے یہ رابطے ہوئے اور امریکہ میں تو خاص طور پر نوجوانوں نے کافی کام کیا ہے۔ان تعلقات کو اور اپنے ہر عمل کو ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس طرح استعمال کرے اور انجام دے کہ جس کے نتیجے میں احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام