خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 426
خطبات مسرور جلد دہم 426 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء کو اسے جاری رکھنا چاہئے۔دوسری بات یہ کہ ترقی کرنے والی قو میں صرف یہی نہیں دیکھتیں کہ ہم نے یہ یہ کر لیا ہے بلکہ جو کمیاں رہ جائیں اُن پر بھی نظر رکھتے ہیں اور جو نقائص ہیں اُن پر نظر رکھنا ضروری ہے تبھی صحیح راستوں کا تعین ہوتا ہے تبھی صحیح رہنمائی ملتی ہے۔اور چاہے امریکہ ہے یا کینیڈا ہے، جلسے کے دنوں میں خاص طور پر ایک لال کتاب ہونی چاہئے۔جہاں جن کے پاس نہیں ہے وہ رکھیں۔جس میں ہر جگہ جو جو کمیاں اور کمزوریاں رہ جائیں ان کمیوں کا ذکر ہو۔مثلاً میں عرصہ سے دنیا کو ہوشیار کر رہا ہوں کہ بعض سیاسی، جنگی اور معاشی حالات ایسے ہو سکتے ہیں کہ جس میں پریشانی سے بچنے کے لئے گھروں میں بھی اور جماعتی سطح پر بھی بعض انتظامات ہونے چاہئیں۔امریکہ میں تو اکثر قدرتی آفات اور طوفان اور ہریکین (Haricane) بھی آتے رہتے ہیں۔وہاں تو جہاں جہاں بھی مسجد میں بن رہی ہیں، سینٹر ز ہیں ، وہاں کم از کم ایسے انتظام ہونے چاہئیں جہاں پانی اور بجلی کا انتظام با قاعدہ رہے کیونکہ اس کے بغیر آجکل گزارا نہیں ہورہا۔اب گزشتہ دنوں جب میں وہاں تھا ہم جلسہ پر ہیرس برگ گئے ہوئے تھے، پیچھے سے طوفان آیا اور بیت الرحمن کی مشن ہاؤس کی اُس علاقے کی تمام بجلی بند ہوگئی ، پانی بند ہو گیا اور بجلی، پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔حالانکہ جماعتی سطح پر جنریٹرز ایسی جگہوں پر ہونے چاہئیں کہ فوری طور پر جماعتی عمارات کو روشن کرسکیں اور پانی وغیرہ کی کمی پوری کر سکیں۔شاید یہ البی تقدیر بھی ہو۔بعضوں کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ہوا ہے کیونکہ پہلے وارننگ آجایا کرتی ہے اور یہ سب کچھ بغیر وارننگ کے ہوا۔کہیں کسی جگہ کوئی شرارت کا امکان ہوسکتا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح ٹال دیا۔اللہ بہتر جانتا ہے کیا تھا۔لیکن ہمیں بہر حال کچھ حد تک، دنیا میں ہر جگہ اپنے انتظامات مکمل رکھنے چاہئیں۔اب کینیڈا کی طرف آتا ہوں شاید وہ سوچ رہے ہوں کہ خطبہ کینیڈا میں دیا جا رہا ہے اور باتیں امریکہ کی ہورہی ہیں۔ساری تعریفیں یا نقائص امریکہ کے بیان ہو گئے ، آپ کے بھی بیان کر دیتا ہوں۔ایک تو مشترک باتیں ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔تمام جماعت کو ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنیں اور اس سے تعلق جوڑیں۔نہ صرف کینیڈا یا امریکہ کا بلکہ دنیا کے ہر احمدی کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق جوڑے۔اس کے لئے بار بار میں کہتا رہتا ہوں۔دوسرے جیسا کہ میں نے کہا، اخلاص و وفا کے یہ نظارے کینیڈا میں بھی نظر آتے ہیں اور آ رہے ہیں، ابھی تو میں یہیں ہوں۔جس دن میں یہاں پہنچا تھا، اُس دن پاکستان سے آئی ہوئی ہماری ایک عزیزہ جو امریکہ سے بھی ہو کر آئی تھی ، ان کو امریکہ سے کسی کا فون آیا کہ