خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 421
خطبات مسر در جلد دہم 421 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء ضرورت نہیں ہے۔وہ ہماری شکر گزاری کا حاجتمند نہیں۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔وَمَن يَشْكُرُ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ حَميدٌ (لقمان: 13) اور جو بھی شکر کرتا ہے، اُس کے شکر کا فائدہ اُسی کی جان کو پہنچتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے وہ یادر کھے کہ اللہ تعالیٰ سب قسم کے شکروں سے بے نیاز ہے۔پس ایک احمدی اس قسم کا شکر گزار ہونا چاہئے۔پھر شکر گزاری کے بھی کئی طریقے ہیں۔اُن طریقوں کو ہمیشہ روزانہ اپنی زندگی میں تلاش کرتا رہے۔ایک احمدی جو ہے، حقیقی مومن جو ہے وہ شکر گزاری کے ان طریقوں کو تلاش کرتا ہے تو پھر دل میں بھی شکر گزاری کرتا ہے۔پھر شکر گزاری زبان سے شکریہ ادا کر کے بھی کی جاتی ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہے یا کسی دوسرے کی شکر گزاری بھی کرتا ہے تو زبان سے شکر گزاری ہے۔اور پھر اپنے عمل اور حرکت و سکون سے بھی شکر گزاری کی جاتی ہے۔گویا جب انسان شکر گزاری کرنا چاہے تو اُس کے تمام اعضاء بھی اس شکر گزاری کا اظہار کرتے ہیں یا انسان کے تمام جسم پر اُس شکر گزاری کا اظہار ہونا چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ جب بندوں کا شکر کرتا ہے، یہاں شکر گزاری کا جو لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے، تو یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ، انسان پر انعامات اور احسانات ہیں۔یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری جب انسان کرتا ہے تو ان باتوں کا اُسے خیال رکھنا چاہئے کہ انتہائی عاجزی دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا جائے۔دوسرے اللہ تعالیٰ سے پیار کا اظہار کرنا اور اُس کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کو علم میں لانا۔ہر فضل جو انسان پر ہوتا ہے اُس کو یہ سمجھنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔یہ علم ہونا چاہئے کہ ہر نعمت جو مجھے ملی ہے وہ اللہ کے فضلوں کی وجہ سے ملی ہے۔یہ احساس پیدا ہونا چاہئے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔پھر اُس کے انعامات اور احسانات کا منہ سے اقرار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا ، اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کی حمد سے، اُس کے ذکر سے تر رکھنا۔پھر یہ بھی کہ اُس کی مہیا کردہ نعمتوں کو اس رنگ میں استعمال کرنا جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے والی ہوں ، جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ان باتوں کے کرنے کے نتیجے میں پھر ایک شکر گزاری حقیقی رنگ میں شکر گزاری بنتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا اس کے نتیجے میں پھر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا یہ ہے کہ وہ اپنے ایسے شکر گزار بندوں کو مزید انعامات اور احسانات سے نوازتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا