خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 420
خطبات مسرور جلد دہم احسان کیا ہے۔420 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء لیکن ہر احمدی کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ اُس کی شکر گزاری بھی تبھی ہو گی جب وہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کی اس بات کو سامنے رکھے کہ اُس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ایک احمدی اپنے مقصد پیدائش کو پہچانے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے پھر اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرے۔اپنے آپ کو اُس اسوہ کے مطابق چلانے کی کوشش کرے جو ہمارے سامنے ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا۔روایات میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دن بھر کے فضلوں کو یاد کرتے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے اور فرماتے کہ تمام حمداللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھ پر فضل و احسان کیا ، مجھے عطا فر مایا اور مجھے بہت دیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 495 مسند عبد الله بن عمر حدیث 5983 دار الكتب العلميه بيروت 1998ء) بہر حال اللہ تعالیٰ ہی کی حمد وثنا ہے۔اور پھر آپ کا عبادتوں کا یہ حال تھا کہ عبادت کرتے کرتے ( روایات میں آتا ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے تھے۔اور یہ عرض کرنے پر کہ یا رسول اللہ ! آپ اتنی مشقت کیوں اُٹھاتے ہیں؟ فرماتے : کیا میں خدا تعالیٰ کا عبد شکور نہ بنوں؟ (صحیح البخاری کتاب التفسير - سورة الفتح باب قوله ليغفرك الله ما تقدم من ذنبك و ما تاخر۔۔۔4837) پس اس عبد شکور کے ماننے والوں کا اور اُس کی امت کا بھی فرض ہے کہ اپنی استعدادوں کے مطابق اس اُسوہ کی پیروی کرنے کی کوشش کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پیار سے حصہ پانے والے بہنیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ آپ اعلان فرما دیں کہ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران : 32) “ کہ تم میری پیروی کرو، میرا اسوہ حسنہ اپنانے کی کوشش کرو تو اللہ تعالیٰ کے پیارے ہو گے ، اُس کا پیار حاصل کرنے والے بنو گے۔اور اللہ تعالیٰ کا پیار پھر اور نعمتوں اور فضلوں سے حصہ پانے والا بناتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نعمتوں کے ملنے پر ہی شکر گزاری نہیں فرماتے تھے بلکہ کسی مشکل سے بچنے پر بھی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے تھے۔حتی کہ روز مرہ کے کاموں میں، چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی آپ کی سیرت میں شکر گزاری کی انتہا نظر آتی ، اور اس کے علاوہ بھی شکر گزاری ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تھی۔پس یہ وہ حقیقی شکر گزاری ہے جس کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے اور یہ ایسی شکر گزاری ہے جس پر اللہ تعالیٰ مزید فضل فرماتا ہے۔اپنے انعامات اور احسانات کئی گنا بڑھادیتا ہے۔پس یہ شکر گزاری انسان کے اپنے فائدہ کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ کو ہماری شکر گزاری کی