خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 419
خطبات مسر در جلد دہم 419 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء خیر و برکت کے ساتھ یہ اپنے اختتام کو پہنچے۔الحمد للہ۔لیکن جیسا کہ میں امریکہ کے جلسہ میں بھی اور کینیڈا کے جلسہ میں بھی بیان کرتا رہا ہوں کہ جلسوں کا اصل مقصد اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنا ہے۔یہ خیر و برکت جو جلسے کے ذریعہ سے ملتی ہے حقیقت میں اُس وقت ہے جب ہمارے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوں۔اور پھر یہ عارضی تبدیلیاں نہ ہوں بلکہ مستقل کوشش اور ہمت کے ساتھ ان تبدیلیوں کو زندگی کا حصہ بنایا جائے۔بار بار میں یہ چیز دہراتارہتا ہوں۔اور یہ چیزیں پھر خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہونے کے مضمون کو بھی کھولتی ہیں اور جب یہ شکر گزاری کا مضمون واضح ہوتا ہے تو پھر ایک مومن اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کا وارث بنتا چلا جاتا ہے اور اس طرح ایک فضل کے بعد دوسرا فضل انسان پر ہوتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ جو سچے وعدوں والا ہے وہ اپنے شکر گزار بندوں سے یہ وعدہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم: 8) کہ اگر تم شکر گزار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔پس اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں اور احسانات کو اُن لوگوں کے لئے مزید بڑھا دیتا ہے جو اُس کے شکر گزار ہیں۔اور ایک احمدی مسلمان کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا بڑا انعام اور احسان ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے جس نے نیکیوں کے بجالانے اور پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف رہنمائی کی ہے۔پس ہر احمدی کو شکر گزاری کے اس مضمون کو سمجھنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا حاصل کرنے والا بنے۔نہ کہ اُن لوگوں میں شامل ہو جو اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے والے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنتے ہیں۔ان ملکوں میں آکر دنیاوی لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ نے آپ پر بے انتہا فضل فرمایا ہے اور بعض پر یہ فضل بہت زیادہ ہوا ہے۔اکثریت کے حالات بھی اُن کے پہلے حالات سے بہتر ہوئے ہیں اور جیسا کہ میں نے جلسے میں بھی اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت سوں کے لئے یہاں لانے کے سامان کئے ہیں اور اُس کے نتیجے میں آپ کے دنیاوی حالات بہتر ہوئے ہیں۔یہ بھی احمدیت کی برکت ہے۔وہ لوگ یقیناً ناشکرے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں گرے ہوئے ہیں جو یہاں آئے ، احمدیت کی بنیاد پر یہاں پاؤں نکائے، اسائلم لیا اور جب حالات بہتر ہوئے تو جماعت پر اعتراض شروع کر دیا ، جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔بہر حال جماعت کو تو ایسے لوگوں کی رتی بھر بھی پرواہ نہیں ہے۔یہ جو محاورہ ہے کہ خس کم جہاں پاک یہ ایسے ہی لوگوں پر صادق آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو علیحدہ کر کے جماعت پر بھی یہ ایک