خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 414
خطبات مسرور جلد دہم 414 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء یعنی خدا تعالیٰ کا فضل جو ہے اس کو اعمالِ صالحہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی اور اتباع اور دعا ئیں جذب کرتی ہیں۔پھر ایک جگہ آپ نے بڑی سختی سے تنبیہ فرمائی ہے اور الفاظ بڑے سخت ہیں۔فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزه زو مکرم ہے جو متقی ہے۔اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اُس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا۔یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہو سکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور نا پاک بھی وہیں۔ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہو اور خبیث ہلاک کیا جاوے۔اور چونکہ اس کا علم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے۔پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بد بخت ہے وہ جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 177۔ایڈیشن 2003 ء۔مطبوعہ ربوہ) پس یہ تمام ارشادات جو میں نے پڑھے ہیں ایک حقیقی احمدی کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہیں۔آپ نے فرمایا خطرات سے پہلے اُن خطرات سے بچنے کی کوشش کرو اور خطرات سے بچنا یہی ہے کہ اپنے ہر قول و فعل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے تا کہ پھر انسان نجات یافتوں کی فہرست میں بھی شامل ہو جائے۔اس فہرست میں شامل ہونے کے تین طریقے آپ علیہ السلام نے بتائے ہیں۔ایک یہ کہ نیک اعمال بجالاؤ۔نیک اعمال کی وضاحت یہی ہے کہ ہر قدم جو ہے وہ نیکیوں کے حصول کے لئے ہو۔اور پھر ان نیک اعمال کی نشاندہی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے ہوسکتی ہے اُس کو دیکھو، وہاں سے ملے گی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے بارے میں حضرت عائشہ نے فرمایا تھا کہ آپ کے اخلاق قرآنِ کریم ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 144 مسند عائشة " حدیث 25108 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1998ء) پس قرآن کریم کی طرف توجہ کرنی ہوگی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی کرو تو پھر حاصل ہوگا۔پھر اپنے اعمال اور سنت نبوی پر چلنے کے عمل کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اور دعاؤں سے مزید خوبصورت بناؤ۔فرمایا یہی جماعت ہے جس کے مقدر میں کامیابی مقدر ہے۔یہی تقویٰ پر چلنے والے لوگ ہیں جنہوں نے دنیا پر غالب آنا ہے۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اس اصل کو سمجھ جائیں ، اس بات کو سمجھ جائیں ، اس بنیادی