خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 386

خطبات مسر در جلد دہم 386 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔یعنی مکمل توجہ نماز پر ہو۔پھر دنیاوی خیالات اور خواہشات ذہن پر قبضہ نہ کریں۔ذہن میں یہ ہو کہ جس خدا کے سامنے میں کھڑا ہوں اُس کے احکامات کی کامل اطاعت کرنی ہے۔پس جب یہ حالت ہوتی ہے تو پھر ایسے نمازیوں کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نمازیں بھی تمہاری حفاظت کرنے والی ہوں گی اور تمہاری نگران بن جائیں گی ،تمہیں برائیوں سے روکیں گی تمہارے گھروں کو برکتوں سے بھر دیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نمازیں نہ پڑھیں ، بلکہ حضور قلب کی کوشش کریں جس سے اُن کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 345-346 ایڈیشن 2003 ، مطبوعہ ربوہ ) پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تنهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت: 46) کم یقیناً نماز ناپسندیدہ اور بری باتوں سے روکتی ہے۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ نماز لغویات اور بری باتوں سے روکتی ہے لیکن ہر نماز نہیں اور ہر نمازی کو نہیں۔ہر نمازی برائیوں سے نہیں رک سکتا، صرف وہ نمازی اپنی اصلاح کر سکتا ہے یا نماز اس نمازی کی اصلاح کرتی ہے جو کامل فرمانبرداری سے ادا کی جائے۔یہ سمجھ کر ادا کی جائے کہ خدا تعالیٰ میری ہر حرکت و سکون کو دیکھنے والا ہے اور اُس خدا کے سامنے میں کھڑا ہوں جو میری ہر حرکت و سکون کو دیکھ رہا ہے۔یہ کامل فرمانبرداری والی نمازیں ہیں جو انسان کی حفاظت کرتی ہیں اور نگرانی کرتی ہیں، اور جن گھروں میں پڑھی جاتی ہیں، ان گھروں کے رنگ ہی کچھ اور ہو جاتے ہیں۔پس ایسی نمازوں کی تلاش ہمیں کرنی چاہئے تھی ہم اپنے عہد بیعت کو حقیقی طور پر نبھا سکتے ہیں۔یہ نہیں کہ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو توجہ اپنے دنیاوی کاموں اور خواہشات کی طرف ہو۔یا کبھی نماز پڑھ لی کبھی نہ پڑھی۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ان ملکوں میں رہنے والے دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتے۔گواب تیسری دنیا میں بھی شہروں میں رہنے والوں کا یہی حال ہے۔لیکن بہر حال پھر بھی کچھ نہ کچھ ایک ایسی تعداد ہے جو مسجدوں میں جانے والی ہے۔باوجود اس کے کہ اسلام کے اس اہم دینی فریضہ کی طرف میں بار بار توجہ دلاتا ہوں، میرے سے پہلے خلفاء بھی اس طرف بہت توجہ دلاتے رہے۔اب تو اس زمانے میں خدا تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کی نعمت سے نواز دیا ہے۔پہلے اگر خلیفہ وقت کی آواز دنیا کے ہر خطے میں فوری طور پر نہیں پہنچ رہی تھی تو اب تو فوری طور پر یہ آواز اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا پیغام ہر جگہ فوری طور پر پہنچ رہا ہے۔اگر ہم