خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 381
خطبات مسرور جلد دہم 381 25 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة السح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء بمطابق 22 احسان 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الرحمن۔واشنگٹن۔امریکہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ احسان ہے کہ اُس نے اس زمانے میں جس شخص کو دنیا کی اعتقادی اور عملی اصلاح کے لئے بھیجا، ہم اُس کے ماننے والے ہیں۔لیکن اس ایمان لانے کے باوجود ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد ہے۔افراد جماعت کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کے قول اور فعل ویسے نہیں جیسے ہونے چاہئیں۔بیشک اُن کی گھٹی میں احمدیت رچی ہوئی ہے۔یعنی اگر اُن سے پوچھو کہ تم احمدی ہو تو بتائیں گے کہ ماشاء اللہ ہمارے دادا پڑدادا احمدی ہوئے تھے، صحابی تھے اور فلاں واقعات اُن کے ایمان اور ایقان کے تاریخ احمدیت اور صحابہ میں درج ہیں۔بلکہ بعض مجھے بھی بتائیں گے کہ فلاں صحابی کا جو واقعہ آپ نے بیان کیا ( گزشتہ کئی خطبوں میں میں صحابہ کے واقعات بیان کرتا رہا ہوں) وہ میرے نانا تھے یا پڑنا نا تھے یا دادا تھے یا پڑدادا تھے۔احمدیت پر اُن کا ایمان ایسا ہے کہ دشمن کے حملے اور وار اُن کو احمدیت سے دور نہیں کر سکے۔جان ، مال کی قربانی بھی انہوں نے دی اور اُن کے باپ دادا نے بھی دی۔اُن میں سے بہت سے آپ میں بھی یہاں بیٹھے ہوں گے لیکن اس سے بھی ہم انکار نہیں کر سکتے کہ قوموں کی ترقی کبھی نہیں ہو سکتی جب تک ہم اپنی آنکھیں کھلی نہ رکھیں، جب تک ہم خود اپنے جائزے نہ لیتے رہیں۔پس اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ احمدیت میں شامل انہی لوگوں میں بعض عملی کمزوریاں بھی ہیں۔حقوق اللہ کی ادائیگی میں کمزوریاں ہیں، حقوق العباد کی ادائیگی میں کمزوریاں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد تو طبیعتوں میں ایک انقلاب پیدا کر کے چودہ سوسال کے عرصے میں