خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 372
خطبات مسرور جلد و هم 372 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء ہوا کہ یکا یک دل میں خیال ڈالا گیا کہ تو قرآنِ کریم کی دعا قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى ابراهیم پڑھ کر بچے کے سر پر سے اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف لا اور بار بار ایسا کر۔چنانچہ میں نے بچشم تر ( روتے ہوئے) اسی طرح عمل شروع کیا۔یہاں تک کہ چند منٹوں میں بچے کا بخار اتر گیا۔صرف گلٹی باقی رہ گئی جو دوسرے دن آپریشن کرانے سے پھوٹ گئی اور چار پانچ روز میں بچے کو بالکل شفا ہو (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 6 صفحہ نمبر 150-151 روایت حضرت چوہدری امیر خان صاحب) حضرت چوہدری امیر محمد خان صاحب فرماتے ہیں کہ جب مجھے شفا خانہ ہوشیار پور میں علاج کراتے ایک عرصہ گزر گیا اور باوجود تین دفعہ پاؤں کے آپریشن کرنے کے پھر بھی پاؤں اچھا نہ ہوا تو ایک دن مس صاحبہ نے ( یعنی انگریز نرس تھی ) جو بہت رحمدل تھی اور خلیق تھی ، مجھے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو پاؤں کو ٹخنے سے کاٹ دیا جائے کیونکہ اب یہ ٹھیک نہیں ہو رہا۔کیونکہ گینگرین کی طرح کی صورت پیدا ہو رہی ہے تاکہ مرض ٹخنے سے اوپر سرایت نہ کر جائے۔میں نے گھر والوں سے مشورہ کر کے اجازت دے دی۔اُس پر مس صاحبہ بیوی کو دوسرے کمرے میں لے گئی جس کمرے میں پاؤں کاٹنا تھا۔( یہ آپریشن بیوی کا ہونا تھا ) میں نے ساتھ جانے کے لئے مس صاحبہ سے اجازت چاہی مگر اُس نے کہا کہ آپ یہیں رہیں۔لہذا میں وہیں وضو کر کے نفلوں کی نیت کر کے دعا میں مصروف ہو گیا۔( بیوی کا آپریشن کرنے کے لئے وہ لے گئی)۔میں وہیں نفلوں میں دعا میں مصروف ہو گیا اور دل اس خیال کی طرف چلا گیا کہ اے خدا! تیری ذات قادر ہے تو جو چاہے سو کر سکتا ہے۔پس تو اس وقت پاؤں کو کاٹنے سے بچالے۔کیونکہ اگر پاؤں کٹ گیا تو عمر بھر کا عیب لگ جائے گا۔تیرے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔اور اسی خیال میں سجدہ کے اندر سر رکھ کر دعا میں انتہائی سوز و گداز کے ساتھ مستغرق ہوا کہ عالم محویت میں ہی ندا آئی ، یہ آواز آئی کہ لَا تَقْنَطُوا من رحمة اللہ اور جب اس آواز کے ساتھ ہی میں نے سجدہ سے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مس صاحبہ (وہ نرس جو تھی ) میری طرف دوڑی آرہی ہے اور آتے ہی یہ کہا کہ سول سرجن صاحب فرماتے ہیں کہ اس دفعہ میں خود زخم کو صاف کرتا ہوں اور پاؤں نہیں کاٹتا، اس لئے کہ پاؤں کو ہر دفعہ کاٹا جاسکتا ہے ( یعنی کہ پاؤں کو تو پھر بھی کاٹا جا سکتا ہے مگر کاٹا ہوا پاؤں ملنا محال ہے۔میں خدا کی اس قدرت نمائی اور ذرہ نوازی کے سو جان سے قربان جاؤں جس نے کرم خاکی پر ایسے نازک وقت میں لا تقنطوا کی بشارت سے معجزہ نمائی فرمائی۔اور وہ پاؤں کٹنے سے بچ گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 6 صفحہ نمبر 121-122 روایت حضرت چوہدری امیر خان صاحب)