خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 371 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 371

خطبات مسر در جلد دہم 371 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء حضرت میاں محمد نواز خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ” 1906ء میں یہاں سیالکوٹ میں طاعون کا از حد زور و شور تھا۔رسالہ بند ہو گیا۔ہر طرف مردے ہی مردے نظر آتے تھے۔مولوی مبارک صاحب صدر میں مولا بخش (صاحب) کے مکان پر درس (دے) رہے تھے۔میں لیٹا ہوا تھا۔مجھے بھی طاعون کی گلٹی نکل آئی۔میں نے دعا کی کہ یا مولا! میں نے تو تیرے مامور کو مان لیا ہے اور مجھے بھی گلٹی نکل آئی ہے۔پس اب میں تو گیا۔مگر خدا کی قدرت کہ صبح تک وہ گلٹی غائب ہوگئی اور میرا ایک ساتھی محمد شاہ ہوا کرتا تھا، اُسے میں نے دیکھا کہ مرا پڑا ہے۔محمد شاہ اور میں دونوں ایک کمرے میں رہتے تھے۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 10 صفحہ نمبر 1143 روایت حضرت میاں محمد نواز خان صاحب) پھر حضرت خلیفہ نورالدین صاحب سکنہ جموں فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ جموں سے پیدل براہ گجرات کشمیر گیا۔راستہ میں گجرات کے قریب ایک جنگل میں نماز پڑھ کر اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ والی دعا نہایت زاری اور انتہائی اضطراب سے پڑھی۔اللہ تعالیٰ میرے حالات ٹھیک کر دے۔کہتے ہیں اُس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری روزی کا سامان کچھ ایسا کر دیا کہ مجھے کبھی تنگی نہیں ہوئی اور باوجود کوئی خاص کاروبار نہ کرنے کے غیب سے ہزاروں رو پے میرے پاس آئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 12 صفحہ نمبر 68 روایت حضرت خلیفہ نورالدین صاحب) حضرت امیر خان صاحب فرماتے ہیں کہ 1915ء کو میرے بچے عبداللہ خان کو جبکہ میں بمع عیال قادیان میں تھا طاعون نکلی اور دو دن کے بخار نے اس شدت سے زور پکڑا کہ جب میں دفتر سے چار بجے شام کے قریب گھر میں آیا تو اُس کی نہایت خطرناک اور نازک حالت تھی۔اُس وقت میرے یہی ایک بچہ تھا۔والدہ یعنی بچے کی ماں جو کئی دنوں سے اُس کی تکلیف کو دیکھ دیکھ کر جاں بہ لب ہو رہی تھی ، مجھے دیکھتے ہی زار زار رو دی اور بچے کو میرے پاس دے دیا۔سخت گرمی کا موسم اور مکان کی تنگی اور تنہائی اور بھی گھبراہٹ کو دو بالا بنارہی تھی۔(مکان بھی تنگ ، گرمی کا بھی موسم ، کیلے اور اس پر یہ کہ بچہ بھی بہت زیادہ بیمار، تو گھبراہٹ اور بھی زیادہ بڑھ رہی تھی) کہتے ہیں میں نے بچے کو اٹھا کر اپنے کندھے سے لگالیا۔بچے کی نازک حالت اور اپنی بے کسی ، بے بسی کے تصور سے بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اس اضطراری حالت میں بار باران دعائیہ الفاظ کا اعادہ کیا کہ اے خدا! اے میرے پیارے خدا! اس نازک وقت میں تیرے سوا اور کوئی غمگسار اور حکیم نہیں ، صرف ایک تیری ہی ذات ہے جو شفا بخش ہے۔غرضیکہ میں اس خیال میں ایسا مستغرق