خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 370
خطبات مسرور جلد دہم 370 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء جائیں۔آج تک ہمارا یہی تجربہ ہے کہ پھر خدا تعالیٰ ایسی دعاؤں کو سنتا ہے، یا ایسی رہنمائی فرما دیتا ہے جو اگر دعامانگنے والے کی خواہش کے مطابق نہ بھی ہو تب بھی تسلی اور تسکین کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔پھر آداب دعا کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آداب دعا سے واقف ہیں اور نہ اس زمانہ میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف ہیں جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں“۔فرمایا ” بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت ہو گئی ہے۔بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں اور جو دعا کے منکر تو نہیں مگر ان کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ چونکہ ان کی دعائیں بوجہ آداب دعا سے ناواقفیت کے قبول نہیں ہوتی ہیں۔کیونکہ دعا اپنے اصلی معنوں میں دعا ہوتی ہی نہیں“۔(یعنی دعا کے آداب نہیں آتے اور جب دعا کے آداب نہیں آتے تو دعائیں قبول نہیں ہوتیں لیکن فرمایا کہ اصل تو یہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ جو دعا کے اصل معنی ہیں اُس طرح دعا کی نہیں جاتی۔) فرمایا ” اس لئے وہ منکرین دعا سے بھی گری ہوئی حالت میں ہیں۔ان کی عملی حالت نے دوسروں کو دہریت کے قریب پہنچادیا ہے۔دعا کے لئے سب سے اوّل اس امر کی ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو جاوے اور اللہ تعالیٰ پر یہ سوءظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ پر بدظنی نہیں ہونی چاہئے کہ بہت لمبا عرصہ میں نے دعا کر لی اب کچھ نہیں ہوگا )۔( ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 692-693 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی حقیقت و آداب کا یہ ادراک ہمیں عطا فرمایا اور سب سے بڑھ کر اپنے اُن صحابہ کو عطا فر ما یا جن کی براہ راست تربیت آپ نے فرمائی۔بلکہ آپ کی آمد سے جودنیا میں ایک ہلچل مچی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی جو تحریک چلی ، اُس نے بھی بہت سے ایسے لوگوں کو جن کی اللہ تعالیٰ اصلاح کرنا چاہتا تھا، اُن میں بھی دعا کی حقیقت اور آداب کا ادراک پیدا فرما دیا۔اور یوں اُن لوگوں کا آپ پر ایمان اور بھی مضبوط ہو گیا۔اس وقت میں آپ کے زمانے کے اور آپ سے فیض پانے والے چند صحابہ کا ذکر کروں گا جنہوں نے دعا کی حقیقت کو جانا اور اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اُن کی دعاؤں کی قبولیت کے نظارے دکھائے جس سے اُن کے ایمان بھی مضبوط ہوئے اور وہ لوگ دوسروں کی ہدایت کا بھی باعث بنے۔