خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 366
خطبات مسر در جلد دہم 366 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء بہر حال نہیں نکلے اور آخری دن تک یہی کمی محسوس ہوتی رہی۔انتظامیہ کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے اور یہ پاکستان میں بھی ہمیشہ طریق رہا ہے اس طرح ہی ہوتا تھا کہ روزانہ رات کو افسر جلسہ سالانہ تمام نائب افسران اور ناظمین کے ساتھ میٹنگ کرتا ہے، جس میں ہر شعبہ کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کہاں کہاں کمیاں رہ گئی ہیں۔اُن کو کس طرح اگلے دن پورا کرنا ہے۔لنگر خانے کا جائزہ ہوتا ہے کہ کتنا کھانا پکا اور کتنے مہمانوں نے کھایا ؟ کمی ہوئی یا زائد پکانا پڑا یا زائد بچ گیا؟ اس کے مطابق پھر اگلے دن کا حساب ہوتا ہے۔شعبہ مہمان نوازی کا کام ہے کہ بجائے باتوں کو ٹالنے کے افسر جلسہ سالانہ کے علم میں لائے کہ آج اتنے لوگوں اور مہمانوں نے یا کارکنوں نے کھانا کھایا اور اتنوں کو کھانا نہیں مل سکا۔وجوہات کیا ہوئیں؟ یہ تو پھر انہوں نے ، بعض دوسرے شعبوں نے طے کرنی ہیں۔باقاعدہ اس کا ریکارڈ رکھنا چاہئے۔اس جائزے سے پھر اگلے دن یا اگلے وقت کھانے میں بہتری پیدا کی جاسکتی ہے۔اگر یہ با قاعدہ میٹنگ اور اگلے دن کی پلاننگ ہوتی تو سکہ تھ فوری طور پر بہتر صورت پیدا ہو سکتی تھی۔اسی طرح ایک شعبہ معائنہ بھی ہوتا ہے اور افسر جلسہ سالانہ کا اپنا بھی شعبہ ہوتا ہے اور معاونین ہوتے ہیں، جو مختلف جگہوں میں جا کر معائنہ کرتے ہیں اور جائزہ لیتے ہیں کہ صحیح کام ہو رہا ہے یا نہیں۔اگر ہنگامی نوعیت کا معاملہ ہو تو اُسی وقت اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔تو بہر حال اس شعبہ کو زیادہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح جلسہ گاہ میں غسل خانوں ، ٹائلٹس وغیرہ کی کمی کو بھی محسوس کیا گیا حالانکہ اس کمپلیکس (Complex) میں بیشمار غسل خانے اندر بنے ہوئے ہیں لیکن شاید کسی وجہ سے کھولے نہیں گئے۔بعض بوڑھی عورتوں اور مردوں کو بھی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا، مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حالانکہ بیماروں اور معذوروں کے لئے علیحدہ اور بہتر انتظام ہو سکتا تھا اور ہونا چاہئے تھا اور ان ملکوں میں تو ہوتا ہے۔ڈیوٹی والوں اور ڈیوٹی والیوں کو بھی چاہئے کہ ان جگہوں پر خاص طور پر اصولوں کی اتنی سختی نہ کیا کریں۔آپ کا کام ہر ایک کو سہولت مہیا کرنا ہے۔انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ اگر پہلے غسل خانے کھولنے کی اجازت نہیں لی تھی تو حالات کے پیش نظر فوری طور پر اجازت لے لیتے۔اگر کرائے کا مسئلہ تھا، پیسہ بچانا تھا تو پیسہ بچانا بہت اچھی چیز ہے لیکن ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ مہمانوں کی مہمان نوازی کی کمی کی قیمت پر ہم پیسہ نہیں بچا سکتے۔یہ نہیں ہے کہ مہمان نوازی میں کمی کر کے پیسہ بچایا جائے۔مہمانوں کی مہمان نوازی بہر حال ہر چیز پر فوقیت رکھتی ہے۔اگر افسر جلسہ سالانہ کی ایک خاص ٹیم جائزے لیتی رہتی تو یہ جو کی یہاں پیدا ہوئی ہے یا