خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 365

خطبات مسرور جلد و هم 365 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء میرے اندر ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کے ایمان وایقان میں ترقی دے اور جو برکات جلسہ کی ہر ایک نے حاصل کی ہیں ، وہ دائمی برکات ہوں۔بہر حال جرمنی کا جلسہ عمومی طور پر بہت اچھا رہا۔جہاں تک میں نے بیچ بیچ میں سے بعض دفعہ ایم ٹی اے پر تقریریں سنی ہیں، تقریروں کا معیار بھی بہت اچھا تھا۔بڑی برکتوں کو سمیٹنے والا اور سمیٹ کر پھر بکھیر نے والا یہ جلسہ تھا۔جلسہ کی تیاری کے لئے سارا سال انتظامیہ مصروف رہتی ہے اور باوجود اس کے کہ جرمنی کا جلسہ جو ہے اُس کے تمام انتظامات تقریباً ایک چھت کے نیچے ہی ہوتے ہیں پھر بھی وقار عمل اور کام کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔اس سال پاکستان سے آئے ہوئے نئے اسائلم سیکرز ( Assylum Seakers) نے بھی بڑے جوش سے کام کیا۔انتظامیہ نے بتایا کہ اگر انہیں دوسو کی ضرورت ہوتی تھی، بلواتے تھے تو چارسودالنٹیئر کام کرنے کے لئے آجاتے تھے۔اللہ کرے کہ کیس پاس ہو جانے کے بعد بھی اُن کا یہ جوش و جذ بہ اس طرح ہی قائم رہے۔ابھی تو پاکستان کے حالات اور ایک عرصے سے محرومی کا بھی اثر ہے۔لیکن کیس پاس ہونے کے بعد بھی حقیقی شکر گزاری خدا تعالیٰ کی یہی ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل نہ ہوں اور دوسرے دنیا کی خاطر جماعت کے کام کو پس پشت نہ ڈالیں۔خلافت سے وفا اور محبت کا تعلق رکھیں۔اس کا بھی تجربہ ہر سال نیا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس تعلق کو بھی بڑھاتا چلا جائے۔انتظامات کے تعلق سے بھی بعض باتیں بیان کر دیتا ہوں کیونکہ مجھے بعد میں وہاں ان کو بیان کرنے کا موقع نہیں ملا۔اس کا فائدہ باقی دنیا کو بھی ہو جاتا ہے۔انتظامی لحاظ سے عموماً تو تمام انتظامات اچھے ہی رہے ہیں۔لیکن جیسا کہ بڑے انتظامات میں ہوتا ہے، بعض شکایات بھی پیدا ہوتی ہیں۔میں نے جرمنی میں بھی اپنے اس جلسہ کے پہلے خطبہ میں بھی اس کا ذکر کیا تھا۔شکایات بعض شعبہ جات کے متعلق زیادہ ہیں جن میں سے ایک ضیافت کا شعبہ ہے اور یہ بہت اہم شعبہ ہے۔کھانے میں یا تو کمی رہی ہے یا کھانا کھلانے کا انتظام صحیح نہیں تھا۔لوگوں کو لمبا انتظار کرنا پڑا اور بعض تنگ آکر ، بجائے اس کے کہ لمبی لائنوں میں لگیں بازار سے ہی کچھ کھا لیتے تھے۔عورتوں میں بھی یہی صورتحال تھی۔بچوں کو بھی اس وجہ سے پریشانی ہوئی۔کارکنان اور کارکنات کو بھی بعض دفعہ کھانا نہیں ملتا رہا۔اکثر عورتوں میں بھی خاص طور پر اپنے طور پر انتظام کرنا پڑا۔جب پہلے دن یا ایک وقت میں یہ صورت پیدا ہوئی تھی تو افسر جلسہ سالانہ کا اور اُن کی انتظامیہ کا کام تھا کہ فوری اقدام کرتے۔وجہ معلوم کرتے کہ کیا وجہ ہو رہی ہے؟ شاید انہوں نے اس بارے میں کوشش کی بھی ہو لیکن اس کے بہتر نتائج