خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 364

خطبات مسر در جلد دہم 364 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء میں سے ایک نوجوان نے مجھے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کا خوف رکھو اور اس خوف کے تحت ہم کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنا چاہئے اور اس کے لئے ہم کام کرتے ہیں تو آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے۔تو میں نے کہا باقی باتیں تو ایک طرف ہیں، افریقہ میں ہم مختلف علاقوں میں اور دور دراز دیہاتوں میں جا کر بلا تخصیص مذہب اور قوم کے وہاں کے لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔اور اس کی معلومات دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں، اگر تم چاہو تو تمہیں مل سکتی ہیں۔یہی کافی ثبوت ہے۔ہم نے ان لوگوں سے کچھ لینا تو نہیں۔ہاں ایک کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ لوگ خدائے واحد کے حقیقی عبادت گزار بن جائیں تو ہماری تو یہی کوشش ہے جس کے لئے ہم کام کر رہے ہیں۔بلغار یہ وہ ملک ہے جہاں چند سال سے جماعتی تبلیغ اور ہر قسم کی ایکٹویٹیز (Activities) پر پابندی ہے، وہاں جماعت رجسٹر ڈ بھی نہیں۔حکومت ملاں کے زیر اثر ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ مسلمانوں کے اندرونی فتنے کو ختم کرنے کے لئے اور فسادوں کو ختم کرنے کے لئے ہم ایسا کرتے ہیں کہ ایک ہی خطبہ پڑھا جائے اور سارے ایک فرقے کے لوگ ہوں۔حالانکہ وہاں اس پر عملاً ایسی صورتحال نہیں ہے۔اصل میں یہی ہے کہ بعض عرب ملکوں سے جو امداد یہ لیتے ہیں ، اُس کی وجہ سے اُن کو برداشت نہیں کہ احمدیوں کو تبلیغ کا موقع دیں اور اس سے ان کی چوہدراہٹ ختم ہو جاتی ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی وہاں ہر سال بیعتیں ہوتی ہیں۔اسی طرح مالٹا، سپین، ترکی، بوسنیا وغیرہ کے آئے ہوئے احمدیوں اور غیر از جماعت افراد سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سب پر جلسہ کا بہت اچھا، گہرا اور نیک اثر تھا۔اس مرتبہ میں نے نو مبائعین کی بیعت بڑے ہال میں کروائی تھی۔ہر سال وہاں نو مبائعین آتے ہیں اور بیعت کرتے ہیں لیکن عموماً جب اُن سے علیحدہ میٹنگ ہوتی تھی تو وہاں بیعت ہوا کرتی تھی۔اس دفعہ میں نے کہا کہ بڑے ہال میں بیعت کر لیں تا کہ دوسرے بھی شامل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بیعت کا نظارہ بھی بڑا ایمان افروز ہوتا ہے۔ایک صاحب جن کا کافی عرصے سے جماعت سے رابطہ تھا، غالباً ایران کے ہیں، وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔سب میٹنگوں میں شامل ہوئے۔بیعت کا ان کا ارادہ نہیں تھا۔لیکن جب بیعت شروع ہوئی تو کہتے ہیں کہ کسی قوت نے میرا ہاتھ آگے بڑھا دیا اور میں نے بھی آگے بڑھ کے ہاتھ رکھ دیا اور بیعت کر لی۔اُس کے بعد کہنے لگے کہ یہ وقتی جذ بہ نہیں تھا۔اب میں پکا احمدی ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ اپنے عہد بیعت پر قائم رہوں گا اور اس کو نبھاؤں گا۔کہتے ہیں ایک نیا جوش اور ولولہ