خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 363
خطبات مسرور جلد دہم 363 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء سکتا ہے۔تو یہ تو اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے جس کو صحیح طرح بیان کیا جائے تو ہر ایک کو سمجھ آ جاتی ہے۔پھر ایک نے کہا کہ آپ کے خلیفہ کی تقریر نے کئی باتیں واضح کر دیں۔آپ کا اسلام کے متعلق جو تصور ہے اُس کے پیش نظر مسلمانوں کی انٹیگریشن ضرور ممکن ہے۔( یہ سوال آجکل یورپ میں ہر جگہ اُٹھتا ہے کہ مسلمان ہمارے درمیان انٹیگریٹ نہیں ہو سکتے۔ہمارے اندر، ان کی ایک علیحدگی ہے ) تو یہ سننے کے بعد کہتا ہے، یہ تو بالکل غلط تصور ہے جو لوگوں میں، مغربی معاشرے میں پیدا ہو گیا ہے۔اسی طرح بعض نے اسلام کی خوبصورت تعلیم پر حیرت کا اظہارکیا۔پس اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق کے ماننے والوں کا ہی کام ہے کہ اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کے منہ بند کرائیں۔اکثر افسران نے مجھے بھی اور ہمارے ساتھیوں کو بھی کہا کہ اس تقریر کو تحریری صورت میں ہمیں مہیا کر و۔جرمن جماعت اس کا جرمن زبان میں ترجمہ کر رہی ہے، پھر اُن کو بھیج دے گی۔پھر جرمنی کے جلسہ میں ایک جو اُن کی مستقل روایت بن چکی ہے، جرمن یا غیر احمدی ، غیر مسلم مہمانوں کے ساتھ ایک پروگرام ہوتا ہے۔اس میں بھی پانچ چھ سو افراد عورتیں مردا کٹھے ہو جاتے ہیں جمع ہو جاتے ہیں۔یہاں مجھے بھی کچھ کہنے کا موقع ملتا ہے۔اس دفعہ بھی اسلام کی تعلیم، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد ، حالات حاضرہ اور دنیا جو خدا کو بھولنے لگی ہے، اور اس وجہ سے تباہی کی طرف جارہی ہے، اس کے بارے میں بتانے اور اُس سے ہوشیار کرنے کی توفیق ملی۔اور پھر ہر شخص کا اس تباہی کے بچنے کے لئے کیا کردار ہونا چاہئے؟ اس بارے میں بھی بتایا۔یہ تقریر براہِ راست ایم ٹی اے پر آچکی ہے۔آپ نے سن لی ہوگی۔اس پروگرام میں بھی جیسا کہ میں نے کہا پانچ سو سے او پر جرمن اور دوسرے غیر مسلم، غیر از جماعت افراد شامل ہوئے جن پر اس کا کافی اچھا اور نیک اثر ہوا۔پھر مختلف ممالک سے آئے ہوئے غیر از جماعت احباب سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔اُن میں سب سے بڑا وفد بلغاریہ سے آیا تھا، جہاں سے تقریباً اتشی (80) احباب و خواتین آئے تھے، جن میں صرف تیرہ یا چودہ احمدی تھے باقی اکثریت دوسرے مسلمانوں کی تھی۔چند ایک اُن میں سے عیسائی تھے۔تمام لوگ جلسہ کی کارروائی ، تقاریر، ڈسپلن وغیرہ سے بہت متاثر تھے۔ہر سال کافی تعداد میں نئے لوگ مختلف ملکوں سے آتے ہیں۔اور بلغاریہ سے بھی آتے ہیں اور عموماً جلسہ دیکھ کر متاثر ہو کر جاتے ہیں۔اور بعض کے لئے یہ جلسہ سینے کھولنے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔بلغاریہ سے آئے ہوئے وفد سے جو باتیں ہورہی تھیں تو اُن