خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 362
خطبات مسرور جلد دہم 362 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء ہے، وہ یہ ہے کہ ہر فنکشن میں مقامی لوگ، جن میں پڑھا لکھا طبقہ بھی ہوتا ہے، اسی طرح میئر یا ڈپٹی میئر یا سیاستدان اور افسران وغیرہ اُن کو بھی بلاتے ہیں۔پہلے یہ چیز وہاں نہیں تھی ، یہاں تو خیر جو بھی مسجدیں بنتی ہیں ہوتا ہی ہے۔لیکن جرمنی میں پہلے اس طرح نہیں تھا۔بہر حال اب ان کو یہ توجہ پیدا ہوئی ہے، اور یہ جماعت احمدیہ کے تعارف کے لئے اسلام کی خوبصورت تعلیم بتانے کے لئے اور تبلیغ کے لئے بڑی اہم چیز ہے۔ہمارا اصلی کام اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔دنیا کو حق کی طرف آواز دینا ہے۔پس مساجد کی تعمیر کے ساتھ تبلیغ میں بھی وسعت پیدا ہو رہی ہے اور میں ہمیشہ افراد جماعت کو یہ کہا کرتا ہوں کہ اس تعارف اور تبلیغ کی وسعت کے ساتھ اُن کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔اپنی حالتوں کو اسلامی نمونے کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔اس دفعہ جماعت کے تعارف کی وجہ سے وہاں جو مزید تعلقات پیدا ہور ہے ہیں، ایک ادارہ جس میں فوجی افسران کی خاص طور پر اخلاقی ، سیاسی اور قانونی بنیادوں پر تشکیل اور تربیت کے پروگرام بنائے جاتے ہیں، اُس میں بھی جانے کا موقع ملا۔اسی طرح ان لوگوں کا جو کام ہے، جرمن معاشرے میں ان کا کیا کردار ہونا چاہئے ، پھر یہ لوگ دنیا کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کرتے ہیں، بین الاقوامی ثقافت اور مذہب کے بارے میں بھی وہاں معلومات ہوتی ہیں، اُس کے لئے وہاں لیکچر دیئے جاتے ہیں سیمینارز ہوتے ہیں۔اسی طرح سول انتظامیہ بھی، افسران وغیرہ پروگراموں میں ان کے ساتھ شامل ہوتی ہے۔تو اس میں بھی وہاں پروگرام ترتیب دیا گیا تھا، جس میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ان پروگراموں میں لیکچروں کے لئے بیرونی شخصیات کو بلایا جاتا ہے۔قانون دان بھی آتے ہیں، مختلف مذاہب کے لوگ بھی آتے ہیں، اور مختلف قسم کے مضامین کے ماہرین بھی آتے ہیں۔جرمنی کی مسلمانوں کی مرکزی تنظیم کے سر براہ ایمان مازک صاحب ان کو بھی یہاں بلا یا گیا تھا انہوں نے وہاں لیکچر دیا تھا۔تو جب مجھے بھی انہوں نے لیکچر دینے کا کہا، کچھ تھوڑا سا مختصر خطاب کرنے کا کہا، تو میں نے وہاں ملک سے وفاداری کی اسلامی تعلیم پر ایک مختصر تقریر کی ، اس کے بعد دس پندرہ منٹ کے لئے سوال جواب بھی ہوئے۔یہاں علاوہ اعلیٰ فوجی افسروں کے شہر کے میئر اور پڑھا لکھا طبقہ عیسائی پادری اور یہودی وغیرہ بھی شامل تھے۔تو اللہ تعالی کے فضل سے اس لیکچر کا اچھا اثر ہوا۔اسلام کی خوبصورت تعلیم اُن لوگوں تک پہنچی۔جرمنی کے ہماری جماعت کے سیکرٹری خارجہ داؤد مجو کہ صاحب، انہوں نے مجھے بعد میں ایک دو تبصرے بھجوائے کہ ایک شخص نے کہا کہ مجھے اس بات پر بہت تعجب ہوا کہ کوئی شخص دنیا کو در پیش مسائل کا حل اس طرح آسان طریق پر سمجھا