خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 30

خطبات مسرور جلد دہم 30 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012 ء میں کامل ہوتا ہے خدا تعالیٰ خود اس کی دستگیری کرتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 1444 ایڈیشن 2003, مطبوعد ربوہ) ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ انسان کو کمزوریوں سے بچنے کے لئے استغفار بہت پڑھنا چاہئے۔گناہ کے عذاب سے بچنے کے لئے استغفار ایسا ہے جیسا کہ ایک قیدی جرمانہ دے کر اپنے تئیں قید سے آزاد کرالیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 507 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ : بعض لوگوں پر دکھ کی مار ہوتی ہے اور وہ ان کی اپنی ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا تيره (الزلزال: 9) پس آدمی کو لازم ہے کہ تو بہ واستغفار میں لگار ہے اور دیکھتار ہے کہ ایسا نہ ہو، بداعمالیاں حد سے گزرجاویں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لاویں۔جب خدا تعالیٰ کسی پر فضل کے ساتھ نگاہ کرتا ہے تو عام طور پر دلوں میں اس کی محبت کا القاء کر دیتا ہے ( جب اللہ تعالیٰ کا فضل کسی پر ہوتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں بھی اُس کے لئے محبت پیدا کر دیتا ہے لیکن جس وقت انسان کا شرحد سے گزر جاتا ہے، اس وقت آسمان پر اس کی مخالفت کا ارادہ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق لوگوں کے دل سخت ہو جاتے ہیں ( جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا کہ اس پر فضل کی نظر نہیں کرنی تو پھر لوگوں کے دل بھی اُس کے لئے سخت ہو جاتے ہیں) مگر جونہی وہ تو بہ واستغفار کے ساتھ خدا کے آستانہ پر گر کر پناہ لیتا ہے تو اندر ہی اندر ایک رحم پیدا ہوجاتا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ اس کی محبت کا بیج لوگوں کے دلوں میں بود یا جاتا ہے۔“ ( ہاں جب انسان سخت دل ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہ بنے، اللہ تعالیٰ کا اُس سے اپنی ناپسندیدگی کی وجہ سے پھر اظہار ہو رہا ہو تو لوگوں کے دل سخت ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر وہ استغفار کرتا ہے، تو بہ کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ استغفار قبول کر لیتا ہے، تو بہ قبول کر لیتا ہے اور پھر اُس کے نتیجہ میں لوگوں کے دلوں میں اُس کے لئے رحم پیدا ہو جاتا ہے، محبت پیدا ہو جاتی ہے ) فرمایا ” اس کی محبت کا بیج لوگوں کے دلوں میں بو دیا جاتا ہے۔غرض توبہ و استغفار ایسا مجرب نسخہ ہے کہ خطا نہیں جاتا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 196-197 ایڈ یشن 2003 ،مطبوعہ ربوہ ) آج مختلف ملکوں میں ان دنیا داروں کی بداعمالیاں ہی ہیں جنہوں نے ایک فتنہ اور فساد برپا کیا ہوا ہے۔وہی لیڈر جو اپنے زعم میں اپنے آپ کو عوام کا محبوب سمجھتے تھے، عوام کی نظر میں بدترین مخلوق ہو چکے ہیں اور جو اپنے خیال میں اپنے مقام کو قائم کئے ہوئے ہیں۔ابھی بھی اُن کی نظر میں یہ ہے کہ ہم عوام کے بہت محبوب ہیں، پسندیدہ ہیں۔آثار ایسے ظاہر ہورہے ہیں کہ اُن کی بھی باری آنے والی لگتی ہے۔غرض کہ دنیا میں یہ ایک فساد پیدا ہوا ہوا ہے۔اُس کے نتیجے میں جو حکومتیں بدلی ہیں اُس نے مزید فساد پیدا کر دیا