خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 345
خطبات مسرور جلد دہم 345 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء جماعت سے منسلک سمجھتا ہے۔میں نے وضاحت کی خاطر عہدیداروں کے بارے میں بتایا ہے کیونکہ اُن کو جماعت کے سامنے نمونہ ہونا چاہئے۔اس لئے ان کو اپنی حالتوں کا دوسروں سے بڑھ کر جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔پس یہ کوئی محدود حکم یا شرط نہیں ہے بلکہ افراد جماعت کے لئے ،سب کے لئے ضروری ہے۔پس ہمیشہ ان شرائط کے الفاظ پر غور کرتے ہوئے اس کا پابند رہنے کی کوشش کریں۔اس کے کیا معیار ہونے چاہئیں؟ اس کی میں مزید وضاحت کر دیتا ہوں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ چوتھی شرط میں ایک احمدی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ کبھی بھی کسی کو اپنے ہاتھ سے یا زبان سے تکلیف نہیں دینی۔یہ معیار انسان تبھی حاصل کر سکتا ہے جب تقویٰ پر چلنے والا ہو۔دل اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت سے پر ہو۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپس میں حسد نہ کرو۔آپس میں نہ جھگڑو۔آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے دشمنیاں نہ رکھو۔اور تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا۔اُسے ذلیل نہیں کرتا اور اُسے حقیر نہیں جانتا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ” تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔فرمایا کسی آدمی کے شر کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔“ (صحيح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب تحريم ظلم المسلم وخذله۔۔۔۔حديث: 6541) آج آپ دنیا پر نظر دوڑا کر دیکھ لیں۔جو ظلم ہو رہے ہیں، جو حقوق غصب کئے جارہے ہیں، جو مسلمان مسلمان کی گردنیں کاٹ رہے ہیں، جو ظلم و بربریت کے بازار ہمیں ہر طرف گرم ہوتے نظر آتے ہیں ، اُن کی بنیاد یہی حسد ہے اور تقویٰ میں کمی ہے۔ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے اور انتہا پسندی سے بچے ہوئے ہیں۔لیکن چھوٹے پیمانے پر ہمارے گھروں میں بھی ، ہمارے ماحول میں بھی یہ بیماریاں موجود ہیں جن کا حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔اگر ہم میں سے ہر ایک حقیقت پسندی سے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جائزے لے تو خود سے نظر آ جائے گا کہ میں آپ کو یہ غلط باتیں نہیں کہ رہا۔بھائیوں بھائیوں میں حسد کی بنیاد پر رنجشیں ہیں۔افراد جماعت میں حسد کی بنیاد پر رنجشیں ہیں۔عورتوں میں حسد کی بنیاد پر رنجشیں ہیں۔اس بات پر حسد شروع ہو جاتی ہے کہ فلاں کو فلاں خدمت