خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 341
خطبات مسرور جلد دہم 341 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم جون 2012ء 66 نہیں دے گا، نہ زبان سے ، نہ ہاتھ سے، نہ کسی اور طرح سے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول 159 اشتہار تکمیل تبلیغ اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) پس ایک احمدی مسلمان سے نہ صرف احمدی مسلمان بلکہ ہر مسلمان، ہر قسم کی ناجائز تکلیف سے محفوظ ہونا چاہئے اور نہ صرف مسلمان بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کا محفوظ رہنا ضروری ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتے۔اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔تکلیف پہنچانے کی برائی سے وہ پاک ہوتے ہیں تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ پھر اُس نے بھی نیکی کے اعلیٰ معیار کو پالیا۔مومن کا تو ہر قدم آگے سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور بڑھنا چاہئے ، ورنہ تقویٰ اور ایمان میں ترقی نہیں ہوسکتی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شرائط بیعت کی نویں شرط میں فرمایا کہ: یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چلتا ہے، اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 اشتہار تکمیل تبلیغ اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) پس حقیقی نیکی اُس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوگی اور اس رضا کے حصول کے لئے اپنی تمام تر طاقتوں اور استعدادوں کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی میں ایک شخص استعمال کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے بڑھ کر انسان ہے جو اشرف المخلوقات ہے۔پس حقیقی انسان اُس وقت بنتا ہے جب حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہو۔دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی طرف توجہ دے۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ غیروں کو غیر مسلموں کو جو انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تو میں اُن کے سامنے اسلام کی یہ خوبی رکھتا ہوں کہ تمہارا جود نیاوی نظام ہے، بعض حقوق کا تعین کر کے یہ کہتا ہے کہ یہ ہمارے حقوق ہیں اور یہ ہمیں دوور نہ طاقت کا استعمال ہوگا۔جبکہ اسلام کہتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو تو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرو۔اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُن حقوق کو بیان فرما دیا جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے ادا کرنے چاہئیں۔پس یہ فرق ہے دنیاوی نظاموں میں اور خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام میں۔دنیاوی نظام اکثر اوقات حقوق حاصل کرنے کی باتیں کرتا ہے۔اس کے لئے بعض اوقات ناجائز طریق بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ مومنوں کو کہتا ہے کہ اگر حقیقی مومن ہو، اگر میری رضا کے طلبگار ہو تو نہ صرف یہ کہ کسی مطالبے پر حقوق ادا کرو بلکہ حقوق کی ادائیگی پر نظر رکھ کر حقوق ادا کرو۔اور انصاف سے کام لیتے ہوئے یہ حقوق ادا کرو۔انسانی ہمدردی کے جذبے سے یہ حقوق ادا کرو۔