خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 340

خطبات مسرور جلد و هم 340 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء کمی ایک ضمنی چیز تھی ، اصل چیز وہ دُکھ تھا جو ایک دوسرے کے لئے ہمدردی کا جذ بہ نہ رکھنے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہنچا تھا۔پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ ایک دوسرے کے لئے ہمدردی کے جذبات نہ رکھنا، ایک دوسرے کی عزت اور احترام نہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ہر احمدی کو جب وہ دوسرے کے حقوق ادا نہیں کر رہا ہوتا یا کسی سے ہمدردی کے جذبات نہیں رکھتا، حضرت مسیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو سامنے رکھنا چاہئے کہ میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے؟ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے؟ جیسا کہ میں نے کہا تھا اس جلسے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنا نہیں بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے بھی پاک تبدیلی پیدا کرنا ہے اور یہ ضروری ہے۔آپ نے بڑے دُکھ سے فرمایا کہ: ” نماز پڑھتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ نماز کیا شئے ہے؟ جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے،صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے“۔(فضول خواہش ہے، بات ہے)۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 364 اشتہار التوائے جلسہ 27 دسمبر 1893ء اشتہار نمبر 117 مطبوعہ ربوہ) پس نہ کسی کو اپنی نمازوں پر خوش ہونا چاہئے۔نہ کسی کو اپنی جماعتی خدمات پر خوش ہونا چاہئے۔نہ کسی کو کوئی خاص عہدہ ملنے پر خوش ہونا چاہئے۔نہ کسی کو کسی مالی قربانی پر خوش ہونا چاہئے جب تک کہ عاجزی، انکساری اور اپنے بھائیوں سے ہمدردی اُس میں نہ ہو۔اور جب حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کے جذبات ایک انسان میں موجزن ہوتے ہیں تو پھر وہ حقیقی تقویٰ پر قدم ماررہا ہوتا ہے اور حقیقی تقویٰ پر چلنے والا پھر کسی نیکی پر خوش نہیں ہوتا۔اُس میں فخر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اُس کی خشیت اُس میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔ہر نیکی کرنے کے بعد یہ فکر دامنگیر رہتی ہے کہ پتہ نہیں یہ نیکی خدا تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ بھی پاتی ہے کہ نہیں۔پس حقیقی نیکیاں تقویٰ پیدا کرتی ہیں اور تقویٰ انسان میں عاجزی اور انکساری پیدا کرتا ہے۔اور یہی چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس زمانے میں ہم میں پیدا کرنے آئے ہیں۔دوسروں کے لئے ہمدردی کے جذبات رکھنے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ شرائط بیعت جو ایک احمدی کے حقیقی احمدی مسلمان کہلانے کے لئے بنیادی چیز ہے، اس کی چوتھی شرط میں آپ فرماتے ہیں کہ: یہ کہ عام خلق اللہ و عموم اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف