خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 339 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 339

خطبات مسرور جلد دہم 339 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد تو به نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنی ادنی خود غرضی کی بنا پر لڑتے اور دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے۔بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 361 اشتہار التوائے جلسہ 27 دسمبر 1893ء اشتہار نمبر 117 مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں: میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کوستا تا اور اُس سے بلندی چاہتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جبتک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہر اوئے“۔آپ نے فرمایا : ” جب تک خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں اپنے خاص فضل سے کچھ مادہ رفق اور نرمی اور ہمدردی اور جفاکشی کا پیدا نہ کرے ، تب تک یہ جلسہ قرین مصلحت معلوم نہیں ہوتا۔“ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 361-362 اشتہار التوائے جلسہ 27 دسمبر 1893ء اشتہار نمبر 117 مطبوعہ ربوہ) پس دیکھیں افراد جماعت کے آپس کے پیار، محبت اور ہمدردی اور ایک دوسرے کی خاطر قربانی کے جذبات اور احساسات نہ ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس قدر دکھ، رنج اور تکلیف کا اظہار فرما رہے ہیں اور سزا کے طور پر جلسہ بھی ملتوی فرما دیا۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ انتظامات کی کمی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے جلسہ نہ کروایا، حالانکہ اس کے پیچھے ہمدردی کی کمی اور بعض لوگوں کی طرف سے اپنے بھائیوں کے لئے تکبر کا وہ اظہار ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شدید تکلیف میں مبتلا کر دیا۔مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے میں نے یہاں جرمنی میں ایک ہنگامی شوریٰ بلائی تھی تو وہاں جب جلسے کے معاملات پیش ہوئے تو ایک صاحب نے جو بات کی اُس سے مجھے تاثر ملا کہ شاید ان کے خیال میں یا اور لوگوں کے خیال میں بھی ایک سال جلسہ کا التواء یا نہ ہونا وسائل کی کمی کی وجہ سے تھا حالانکہ یہ وسائل کی